Aurat Par Shak Kyun Kiya Jata Hai?

عورت پر شک کیوں کیا جاتا ہے؟

عورت پر شک کرنا ہمارے معاشرے کی اُن تلخ روایتوں میں شامل ہے جو صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔ یہ شک صرف عورت کے کردار تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی نیت، صلاحیت، وفاداری، آزادی، دوستی، ملازمت، تعلیم، لباس، ہنسی، خاموشی اور اس کے خوابوں تک پر کیا جاتا ہے۔ ایک مرد اگر دیر سے گھر آئے تو اسے مصروفیت کہا جاتا ہے لیکن عورت اگر کسی مجبوری سے دیر کر دے تو سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ یہی دوہرا معیار عورت کی زندگی کو ایک ایسی عدالت بنا دیتا ہے جہاں وہ ہر لمحہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں لگی رہتی ہے۔

ہمارے سماج میں عورت پر شک کی بنیاد صرف فرد کی سوچ نہیں بلکہ ایک پوری پدرسری ذہنیت ہے۔ بچپن سے لڑکیوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی ہر حرکت خاندان کی عزت سے وابستہ ہے۔ ان کے چلنے، بولنے، پڑھنے، ملنے جلنے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے پر نگرانی رکھی جاتی ہے۔ گویا عورت ایک انسان نہیں بلکہ ایک ایسا شیشہ ہے جس پر ذرا سا دھبہ پورے خاندان کی بدنامی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی آزادی کو اکثر بداعتمادی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

شک کی یہ روایت مذہب کی غلط تشریح، سماجی خوف، غیرت کے نام پر قائم سوچ اور مردانہ برتری کے احساس سے مضبوط ہوئی۔ حالانکہ اسلام نے عورت کو عزت، اعتماد اور حق دیا مگر معاشرے نے ان تعلیمات کو اپنی سہولت کے مطابق بدل لیا۔ عورت سے پاکیزگی کا معیار تو مانگا گیا........

© Daily Urdu