menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ya Munafqat Tera Aasra

19 0
sunday

یہاں بات محبت کی ہو رہی ہے، ہوس کی نہیں۔ جنس اور اس سے وابستہ خواہشات بھی انسانی حقیقت ہیں، مگر یہاں بے لگام جنسی خواہش کی نہیں، جذباتی وابستگی کی بات ہے۔ نہ کسی کے نیوڈ کی، نہ کسی سیکشوئل بی ہیویئر کی، نہ جنسی تشدد کی۔ بات اس بے وفائی کی ہے جو اعتماد کے اندر دراڑ ڈالتی ہے، اس شخص کی جو آپ کے ساتھ زندگی، گفتگو، وعدے اور جذبات بانٹتا ہے اور پھر کسی موڑ پر آپ کو تنہا چھوڑ دیتا ہے۔

اب سوال یہ ہے: کیا مرد بے وفا ہوتے ہیں؟

یا بے وفائی مردوں کے ڈی این اے میں ہے؟

یا مردوں کا اٹینشن اسپین کم ہے؟

جواب شاید اتنا آسان نہیں۔

عورتیں بھی بے وفا ہوتی ہیں۔

ہماری لوک داستانیں اس حقیقت سے واقف ہیں۔ ہیر، سوہنی، سسی، صاحباں، یہ عورتیں محض کسی مرد کے انتظار میں بیٹھی ہوئی خاموش مخلوق نہیں تھیں۔ انہوں نے محبت چاہی، محبت کی اور بعض نے اس محبت کے لیے اپنے معاشرے کے طے کردہ راستوں سے انحراف بھی کیا۔

ہم صدیوں سے ان کی داستانیں سنتے، گاتے اور روتے آئے ہیں۔

پھر حقیقی زندگی میں عورت محبت کرے تو اچانک مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ ہماری پہلی منافقت ہے۔

ہم شاعری میں عورت کو محبت کا حق دیتے ہیں، افسانے میں اسے عاشق یا معشوقہ بناتے ہیں، فلموں میں اس کی آنکھوں کے آنسو پر تالیاں بجاتے ہیں، مگر حقیقی عورت کی خواہش آتے ہی اس کے کردار کی فائل کھول لیتے ہیں۔

بہت سارے مردوں کو میں نے پروین شاکر کی بے باکی پر جھومتے دیکھا ہے۔ ان کی نظموں میں عورت کی خواہش، تنہائی، جسم، انتظار، محرومی اور محبت انہیں بہت خوبصورت لگتی ہے۔ مگر ان میں سے کئی ایسے بھی تھے جن کے لیے یہ سوچنا محال تھا کہ ان کی اپنی بہن، بیٹی، پوتی یا نواسی کسی "مرد" کو پسند کر سکتی ہے، یا اپنے شوہر کے بازوؤں میں سمٹ کر اپنی خوشی محسوس کر سکتی ہے۔ اپنے اس محبوب کے بارے میں سوچ سکتی ہے جس کو وہ نہ پا سکی۔

ایسے موقع پر میں کہتی ہوں: اب میں کیا لکھوں؟

آپ خود ہی پروین شاکر کی "بے پناہی" پڑھ لیں، یا "چین ری ایکشن" پڑھ لیں۔

امرتا پریتم کو سراہنے والے بھی بہت ہیں۔ مگر کیا ان سب کے گھروں میں ایک ایسی عورت کو، جو اپنی مرضی کی محبت کا انتخاب کرے، اتنی ہی آسانی سے قبول کیا جائے گا؟

ہر لڑکی پروین شاکر یا امرتا پریتم جیسا ادب تخلیق نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس پر لازم ہے۔ مگر انسانی خواہش، محبت، کشش اور تنہائی کے ہارمونز اور جذبات کے بنیادی تجربات تو کسی بیسٹ سیلر، ایوارڈ یا تمغۂ حسنِ کارکردگی کے محتاج نہیں۔

تو کیا بیسٹ سیلرز، ایوارڈز اور تمغے یہ طے کریں گے کہ کس عورت کو محبت کرنے، محبت کا اظہار کرنے اور اس کے بعد اپنی زندگی جینے کا حق ہے؟

سلیمہ ہاشمی آرٹ کی زبان میں نیوڈ پینٹ کر سکتی ہیں، وہاں آرٹ ہے،........

© Daily Urdu