Wifaqi Qarza Record Satah Par Pahunch Gaya |
وفاقی قرضہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
قومی معیشت کی ساخت میں سرکاری قرضہ ایک ایسا حساس اشاریہ ہوتا ہے جو نہ صرف ریاستی مالی نظم و نسق کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مستقبل کے معاشی امکانات اور چیلنجز کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار، جو State Bank of Pakistan کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے قرضے ایک نئی بلند ترین سطح یعنی 79,882 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ یہ محض ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ایک ایسی معاشی کہانی کا تسلسل ہے جس میں مالیاتی دباؤ، پالیسی چیلنجز اور ساختی کمزوریاں باہم جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
اگر اس پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران 6,846 ارب روپے کا اضافہ کسی معمولی رجحان کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ یہ اس بات کا غماز ہے کہ ریاستی اخراجات اور آمدنی کے درمیان عدم توازن مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ مزید برآں، صرف ایک ماہ فروری 2026 میں 555 ارب روپے کا اضافہ اس رفتار کی شدت کو واضح کرتا ہے جس سے قرضوں کا حجم پھیل رہا ہے۔ یہ صورتحال محض اعداد و شمار کی حد تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست معیشت کے ہر شعبے پر مرتب ہوتے ہیں۔
ریاستی قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے کے لیے مالیاتی پالیسی کے ڈھانچے پر نظر ڈالنا ناگزیر ہے۔........