Tibbi Science Mein Nai Daryaft

طبی سائنس میں نئی دریافت

دنیا ابھی تک کووِڈ-19 کی مہیب و سنگین یادوں کے سایۂ گراں سے کامل طور پر نکل نہیں پائی کہ علمِ طب و تحقیق کے افقِ عالم سے ایک نہایت غیر معمولی پیش رفت نمودار ہوئی ہے، جسے وبائی امراض کے مقابل انسانی سعی و کاوش کے باب میں ایک نئے عہدِ معرفت و ادراک کا نقطۂ آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع شدہ حالیہ تحقیقات نے پہلی مرتبہ اس امر کو ٹھوس سائنسی بنیاد فراہم کی ہے کہ ایک مخصوص اینٹی وائرل مرکب نہ صرف کورونا وائرس کے مابعد اثرات کو محدود کر سکتا ہے بلکہ وائرس کے معرضِ اتصال میں آنے کے فوراً بعد مرض کے ظہور پذیر ہونے کے امکانات کو بھی مسدود کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ جاپانی دواساز ادارے "شیونوگی" کی اختراع کردہ دوا "انسٹریل ویر" نے طبی تحقیق کے میدان میں امید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے، کیونکہ تاہنوز اینٹی وائرل ادویات کا عمومی استعمال مرض کے بالفعل ظہور کے بعد ہی کیا جاتا رہا ہے، جب کہ زیرِ نظر مرکب وائرس کے ابتدائی ارتقائی پھیلاؤ کو قبل از وقوع ہی روک دینے کی استعداد کا حامل بتایا جا رہا ہے۔

"نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن" اور علمی جریدے "نیچر" میں مندرج رپورٹس کے مطابق مذکورہ دوا کے کلینیکی تجربات غیر معمولی اور توجہ طلب نتائج کے حامل ثابت ہوئے ہیں۔ دو ہزار سے زائد افراد پر مشتمل بین الاقوامی تجرباتی مطالعے میں اُن افراد کو شامل کیا گیا جو ایسے خانوادوں میں مقیم تھے جہاں پہلے ہی کسی فرد میں کووِڈ-19 کی علامات ظاہر ہو چکی تھیں۔ حاصل شدہ اعداد و شمار سے منکشف ہوا کہ جن افراد کو محض غیر مؤثر پلیسبو دیا گیا اُن میں علامات کے اظہار کی شرح........

© Daily Urdu