menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tameer e Nao Ka Ehad

17 0
01.08.2026

تاریخ کے اوراق پر نگاہ ڈالیے تو ایک حقیقت بار بار اپنے آپ کو دہراتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ سلطنتوں کا زوال اس دن شروع نہیں ہوتا جب دشمن ان کی سرحدوں پر دستک دیتا ہے، بلکہ اس گھڑی سے آغاز پاتا ہے جب ان کے اندر فکر کی شمع مدھم پڑنے لگتی ہے، اداروں کی روح پژمردہ ہو جاتی ہے اور اقتدار اصلاح کے بجائے محض بقا کی تدبیروں میں الجھ جاتا ہے۔ پھر فصیلیں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں، ایوانوں کی رونق بھی باقی رہتی ہے، مگر ان کے اندر زندگی کی وہ حرارت باقی نہیں رہتی جو قوموں کو حرکت، عزم اور ارتقا عطا کرتی ہے۔ قرآنِ حکیم نے اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا کہ "وَتِلُكَ الُأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيُنَ النَّاسِ"، اقتدار اور غلبہ دائمی میراث نہیں بلکہ امانت ہیں اور امانت جب اپنی شرط کھو دیتی ہے تو تاریخ اس سے حساب بھی لیتی ہے۔

ایسے میں اگر خود اربابِ اقتدار یہ اعتراف کریں کہ ان کی تمام تر توانائیاں صرف روزمرہ بحرانوں کی آگ بجھانے میں صرف ہو رہی ہیں، تو یہ کسی ایک حکومت یا ایک وزارت کا بیان نہیں رہتا بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کی داخلی کیفیت کا اعلان بن جاتا ہے۔ آگ بجھانے والا ہمیشہ شعلوں کا تعاقب کرتا ہے، مگر مدبر وہ ہوتا ہے جو آگ لگنے کے اسباب ختم کرے۔ جس ریاست کی سیاست تدبیر سے محروم ہو جائے، وہاں ہر نیا دن........

© Daily Urdu