Qayadat Ki Mandi
ہمارے عہد کی ایک عجیب ستم ظریفی یہ ہے کہ اب صرف اشیا ہی بازار میں فروخت نہیں ہوتیں، خیالات بھی پیکنگ کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں۔ ایک ہی پرانی بات کو کبھی نئے تصور کا نام دیا جاتا ہے، کبھی کسی نئے نظریے کا عنوان اور کبھی انتظامی حکمتِ عملی کی ایک شاندار اصطلاح بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی کردار، اخلاق اور قیادت بھی اب علم سے زیادہ تشہیر اور اصطلاح سازی کی محتاج ہوگئی ہو۔
انتظام و انصرام کے جدید علوم نے یقیناً اداروں کو منظم کرنے، انسانی وسائل کو بہتر بنانے اور فیصلہ سازی کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر اس علمی پیش رفت کے ساتھ ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ صدیوں سے جن اوصاف کو دیانت، صداقت، بصیرت، تدبر، شائستگی اور کردار کی پختگی کہا جاتا تھا، انہیں اب مختلف عنوانات میں تقسیم کرکے نئی علمی مصنوعات کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
تخصص اپنی جگہ ایک قابلِ قدر علمی ضرورت ہے۔ طب میں دل، دماغ، جگر اور اعصاب کے ماہرین کی الگ الگ تربیت اس لیے ضروری ہے کہ انسانی جسم کے مختلف نظام غیر معمولی پیچیدگی رکھتے ہیں۔ مگر قیادت جسم کا کوئی عضو نہیں کہ اسے شخصیت سے الگ کرکے کسی تجربہ........
