Qatil Kon?

رات گہری تھی۔ کراچی کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں، مگر شہر کے شور سے الگ ایک خاموش سوال دو آدمیوں کے درمیان بیٹھا تھا۔ ایک نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا: "تمہیں معلوم ہے، میر رضا علی کو کس نے قتل کیا؟" دوسرے نے کچھ دیر خاموش رہ کر جواب دیا: "اگر معلوم ہوتا تو سوال باقی نہ رہتا"۔ پہلے نے کہا: "مگر شہر میں تو قاتلوں کے نام گردش کررہے ہیں"۔ جواب آیا: "شہر میں نام گردش کرتے ہیں، حقیقت نہیں، حقیقت کو اپنے قدموں سے چل کر ثبوت تک پہنچنا پڑتا ہے"۔ پہلا مسکرایا: "تو کیا تم کہتے ہو کہ جو کچھ ہم سن رہے ہیں، اس میں سے کچھ بھی حقیقت نہیں؟" دوسرے نے کہا: "میں یہ نہیں کہتا۔ میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ ہر اطلاع حقیقت کی طرف جانے والی ایک سیڑھی ہوسکتی ہے، مگر ہر سیڑھی منزل نہیں ہوتی"۔ پھر اس نے پوچھا: "بتاؤ، ایک نوجوان گھر سے نکلے، واپس نہ آئے، اگلے روز اس کی لاش ملے، جسم پر چوٹوں کے آثار ہوں اور گولی پشت سے داخل ہوئی ہو، کیا اسے محض ایک اتفاق کہا جاسکتا ہے؟" جواب ملا: "نہیں"۔ "تو پھر؟" "پھر تحقیق کا دروازہ کھلتا ہے"۔ "اور اگر اس دروازے کے باہر سوشل میڈیا پہلے ہی قاتل کھڑا کردے؟" دوسرے نے کہا: "تب سب سے پہلے تحقیق کو اسی شور سے خود کو بچانا ہوگا۔ کیونکہ افواہ کا کمال یہ ہے کہ وہ سوال سے پہلے جواب لے آتی ہے، جبکہ انصاف کا کمال یہ ہے کہ وہ جواب سے پہلے سوال کو مکمل کرتا ہے"۔

کچھ دیر بعد پہلا بولا: "CCTV میں پستول کا منظر ہے، پھر صبح کی روانگی ہے، ٹیکسی ہے، گلستانِ جوہر کی سمت سفر ہے، موبائل کا بند ہونا ہے اور پھر ایک موٹرسائیکل ہے جو لاش ملنے والے مقام پر تقریباً بائیس سیکنڈ رکتی ہے۔ کیا یہ سب مل کر قاتل کا چہرہ نہیں بناتے؟" جواب آیا: "یہ چہرہ نہیں، آئینے کے ٹکڑے ہیں"۔ "فرق کیا ہے؟" "چہرہ ایک حقیقت ہے، آئینہ صرف اس کی ممکنہ........

© Daily Urdu