Nai Aalmi Safbandi Aur Pak China Ishtirak Ka Ubharta Hua Ufaq |
نئی عالمی صف بندی اور پاک چین اشتراک کا ابھرتا ہوا افق
عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے تغیراتی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے قدیم مراکز بتدریج اپنی گرفت کھوتے دکھائی دے رہے ہیں اور اس کے بالمقابل نئی جغرافیائی و معاشی صف بندیاں ابھر رہی ہیں۔ ایشیا، خصوصاً چین، اس بدلتی ہوئی عالمی بساط میں محض ایک معاشی قوت نہیں بلکہ ایک متبادل عالمی وژن کے داعی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور چین کے مابین حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات اور مشترکہ اعلامیہ محض دوطرفہ سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ خطے کی نئی اسٹریٹجک جہتوں کا اعلان محسوس ہوتا ہے۔ اس اعلامیے نے واضح کردیا ہے کہ بیجنگ اور اسلام آباد اپنے تعلقات کو روایتی دوستی کے دائرے سے نکال کر ایک ہمہ گیر تزویراتی شراکت داری میں ڈھال رہے ہیں، جس کے اثرات جنوبی ایشیا سے لے کر مشرق وسطیٰ اور عالمی طاقتوں کے توازن تک محسوس کیے جائیں گے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات کی بنیاد ہمیشہ باہمی اعتماد، سیاسی ہم آہنگی اور آزمودہ رفاقت پر قائم رہی ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس تعلق کو ایک نئے فکری اور نظریاتی تناظر سے بھی جوڑ دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں "نئے دور کی بین الاقوامی برادری" کے قیام کا تصور دراصل اس عالمی نظام کے مقابل ایک متبادل سفارتی فلسفے کی علامت ہے جس پر طویل عرصے تک مغربی طاقتوں کا غلبہ رہا۔ چین اب صرف اقتصادی........