Ittehad e Ummat, Pegham e Aman, Pakistan Ka Roshan Fikri Mustaqbil

اتحادِ امت، پیغامِ امن، پاکستان کا روشن فکری مستقبل

پاکستان کی تاریخِ سیاسی و اجتماعی کے پیچ و خم اور اضطراب انگیز مصحف پر یہ ایک ایسا تابناک اور درخشندہ باب ہے، جس کی نظیر ایک طویل عرصے سے اقلیمِ فکر میں ناپید تھی اور جو فکرِ اسلامی اور میثاقِ ملی کی تاریخ میں اتحادِ امت کا ایک عظیم سنگِ میل بن کر ابھرا ہے۔ وہ مملکتِ خداداد جو ایک عرصے سے فتنوں کی زد، افراط و تفریط کی فکری ملوکیت اور عسکریت پسندی کی خانمان سوز لہروں کا ہدف بنی رہی، جہاں فرقہ وارانہ منافرت کے زہراب نے امنِ عامہ کے قصرِ رفیع کو متزلزل کر رکھا تھا، وہاں جامعۃ الرشید کراچی کا آستانۂ علم و عرفان ایک ایسے روحانی و فکری مرجع کے طور پر جلوہ گر ہوا جہاں سے ہم آہنگی کی نسیمِ سحر گاہی چلی ہے۔

مختلف مکاتبِ فکر، مسالک اور طبقات سے تعلق رکھنے والے شیوخ العصر، علماءِ عظام اور مشائخِ کبار کا ایک ہی امامِ ہمام کی اقتدا میں صف بستہ ہونا محض ایک ظاہری ادائے عبادت نہ تھی، بلکہ یہ امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کی شیرازہ بندی اور بین المسالک ہم آہنگی کے ایک نئے عهد کا صورِ اسرافیل تھا۔ اس تاریخی و روحانی اجتماع نے عالمِ شہادت پر یہ حقیقت مبرہن کر دی کہ فروعی و جزئی اختلافات کی آویزیوں کے باوجود اصلِ دین اور توحیدی اساس پر امت کا قلبِ واحد کی طرح دھڑکنا ایک مسلّم و غیر متزلزل حقیقت ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت اور انتھک مساعی نے اس دھارے کو پورے ملک میں ایک ہمہ گیر فکری تحریک کی صورت عطا کی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں، بالخصوص صوبائی حکومتوں، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ، کے انتظامی و سیاسی دھاروں........

© Daily Urdu