Gul Plaza Ki Aag: Karachi, Ghaflat Aur Ijtemai Ehtesab Ka Dehakta Sawal

کراچی ایک بار پھر آگ کے شعلوں میں نہیں، بلکہ اجتماعی غفلت، انتظامی بے حسی اور برسوں کے جمع شدہ لاپرواہ رویّوں کی لپیٹ میں جلتا دکھائی دیا۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی آتشزدگی محض ایک حادثہ نہیں رہی، بلکہ یہ سانحہ اب سوال بن چکا ہے سوال نظام سے، سوال ذمہ داری سے اور سوال اس شہر کے مستقبل سے۔ 33 گھنٹوں تک لگی آگ، 40 گھنٹوں بعد ریسکیو اہلکاروں کی عمارت میں رسائی اور پھر ملبے سے نکلتی لاشیں، انسانی اعضا اور ناقابل شناخت اجساد۔۔ یہ سب مناظر کراچی کے باسیوں کے حافظے پر ایسا نقش چھوڑ گئے ہیں جو شاید کبھی مٹ نہ سکے۔

یہ حقیقت کہ آگ لگنے کے وقت عمارت کے 16 میں سے 13 دروازے مقفل تھے، سانحے کی سنگینی کو دوچند کر دیتی ہے۔ کاروباری اوقات کے اختتام کے قریب دروازے بند کر دینا ایک معمولی انتظامی عمل سمجھا جاتا رہا، مگر اسی "معمول" نے درجنوں جانوں کو قید کرکے موت کے حوالے کر دیا۔ گل پلازہ میں موجود افراد کے پاس نہ فرار کا راستہ تھا، نہ بروقت آگاہی کا کوئی موثر نظام۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دم گھٹنے، شعلوں اور زہریلے دھوئیں نے وہ تباہی مچائی جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ریسکیو اہلکاروں کو اندر داخل ہونے میں غیر معمولی تاخیر، عمارت کا........

© Daily Urdu