Gawahi Dete Darya
ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک بستی کے کنارے بہنے والے دریا نے اپنے کناروں سے کہا: "میں ہر برس ایک ہی راستے سے گزرتا ہوں، مگر تم ہر برس میری راہ میں نئی دیواریں کھڑی کر دیتے ہو، پھر جب میں اپنی گزرگاہ واپس مانگتا ہوں تو مجھے آفت کا نام دے دیتے ہو"۔ شاید یہی حکایت ہر مون سون میں ہمارے قومی منظرنامے کی سب سے سچی تمثیل بن جاتی ہے۔ پانی انتقام نہیں لیتا، وہ صرف اپنا راستہ تلاش کرتا ہے، مگر جب انسان قدرت کے نقشے کو اپنی مصلحت کے مطابق بدلنے لگے تو دریا خاموش نہیں رہتے، وہ گواہی دیتے ہیں کہ تباہی کا معمار ہمیشہ بادل نہیں، اکثر انسان خود ہوتا ہے۔
قدرت کا پورا نظام ایک ایسی میزان پر قائم ہے جس میں بے ترتیبی کی کوئی گنجائش نہیں۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر آتے ہیں، پہاڑ اپنی برف کو تدریج کے ساتھ دریاؤں کے سپرد کرتے ہیں، بادل اپنے مقررہ دائرے میں سفر کرتے ہیں اور پانی ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے۔ اس پورے نظام میں اچانک پن کم اور پیش بینی زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے مون سون کا ہر موسم دراصل ایک قدرتی امتحان سے پہلے انسانی تدبیر کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر امتحان میں ناکامی بار بار ایک ہی صورت میں ظاہر ہو تو اس کا سبب فطرت نہیں بلکہ نظمِ ریاست کی کمزوری ہوتی ہے۔
رواں برس جولائی کے اختتام تک سامنے........
