Atomi Muahide Ka Khatma

ایٹمی معاہدے کا خاتمہ

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں تاریخ، طاقت اور تباہی ایک دوسرے سے آنکھیں ملا رہی ہیں۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک عالمی ایٹمی نظم و ضبط کی علامت سمجھے جانے والے ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاہدے کا خاتمہ محض ایک قانونی یا سفارتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک گہرا سوال ہے۔ وہ معاہدہ جس نے سرد جنگ کے انتہائی کشیدہ ادوار میں بھی امریکا اور روس کو ایک حد کے اندر رکھا، اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے اور اس کے بعد پیدا ہونے والا خلا عالمی امن کے لیے ایک خاموش مگر مہلک خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دنیا کے اسی فیصد سے زائد ایٹمی ہتھیار امریکا اور روس کے پاس ہیں۔ انہی دو طاقتوں کے درمیان ایٹمی توازن نے گزشتہ دہائیوں میں اگر مکمل امن نہیں تو کم از کم مکمل تباہی کو روکے رکھا۔ مگر اب اس معاہدے کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک نہ صرف نئے ایٹمی ہتھیار بنانے بلکہ ان کی کھلے عام آزمائش اور تعیناتی میں بھی خود کو آزاد محسوس کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ انتباہ کہ ایسے حالات میں عالمی امن اور سلامتی شدید خطرے میں ہے، محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

گزشتہ........

© Daily Urdu