Aalmi Muashi Adam Istehkam Ka Barhta Hua Khatra

عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں خوشحال کہلانے والی ریاستیں خود اپنے ہی پیدا کردہ مالی بوجھ کے نیچے دبتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جاپان جیسے ممالک، جنہیں دہائیوں تک مالی نظم، صنعتی قوت اور پالیسی سازی کا استعارہ سمجھا جاتا رہا، آج سرکاری قرض کے ایسے پہاڑ تلے آ چکے ہیں جو نہ صرف ان کی داخلی معاشی سلامتی بلکہ پوری عالمی اقتصادی ساخت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ نیویارک ٹائمز سمیت عالمی معاشی مبصرین اس امر پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ریکارڈ سطح تک پہنچنے والا یہ قرض اب محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ترقی کی رفتار، سرمایہ کاری کے رجحانات اور مالی استحکام کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کر رہا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں ترقی یافتہ معیشتوں نے جس بے دریغ انداز میں قرض پر انحصار کیا، اس کی جڑیں عالمی مالیاتی بحران، وبائی حالات، جنگی اخراجات اور سماجی فلاحی وعدوں میں پیوست ہیں۔ امریکا میں حکومتی قرض قومی پیداوار کے مقابلے میں ایسی سطح تک جا پہنچا ہے جس کا تصور کبھی صرف معاشی تھیوری کی کتابوں تک محدود تھا۔ برطانیہ میں بجٹ خسارہ اور قرض کا باہمی رشتہ ریاستی مالیاتی خودمختاری پر سوالیہ........

© Daily Urdu