Milad Un Nabi Aur Hum
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم
خیالات کا تصادم۔۔ طبقاتی کشمکش۔۔ معاشرتی زندگی جمود و تعطل کا شکار۔۔ رنگ و نسل اور ذات پات کی تقسیم۔۔ سیاسی نظام فساد سے بھرپور۔۔ نظریات کا ٹکراؤ۔۔ انسانیت کی تذلیل۔۔ اصنام کی پرستش۔۔ عورت کی وراثت سے محرومی۔۔ لڑکیوں کا زندہ درگور کیا جانا۔۔ نحوت و تکبر کی فضا کا قائم ہونا۔۔ تاریکیوں کے تاریک سمندر میں غرق عرب معاشرہ۔۔ معمولی باتوں پر طبل بجتے ہی تلواروں کا بے نیام ہونا اور نا ختم ہونے والی جنگوں کا شروع ہونا۔۔ کشت و خون کی داستانوں کا رقم ہونا۔۔ لایعنی رسم و رواج کا فروغ۔۔ لغو الفاظ سے مزین شاعری پر افرادکا اظہار مسرت۔۔ بیواؤں کے چہروں پر خاوند کی وفات کے بعد مایوسیوں اور اداسیوں کے سایوں کا منڈلانا اور موت کا ان کے گرد والہانہ رقص کرنا۔۔ اب ایک خواب محسوس ہوتا ہے۔۔ لیکن یہ خواب کبھی حقیقت سے آراستہ تھا۔۔ جی ہاں یہ ساری باتیں عرب معاشرہ میں ظہور اسلام اور بعثت نبوی ﷺ سے قبل پائی جاتی تھیں۔۔ بجائے اس کے وہ ان کاموں پر ماتم کناہ ہوتے۔۔ خوشی ان کے چہروں پر مچلتی۔۔ اس طرح کے افعال کی بجا آوری ان کے لئے........
