Mia Khalifa |
اگر کوئی شخص ماضی کا بوجھ اترنا چاہے تو کیا ہم اسے ایسا کرنے کی اجازت دیں گے! یقیناً "مہذب بےغیرت" ایک عجب سی اصطلاح ہے بہت سوں کے نزدیک۔ یوں کہ کوئی شخص ایک ہی وقت میں مہذب اور بےغیرت کیسے ہو سکتا ہے! یا تو انسان کی نفسیات میں تہذیب ہوگی یا نہیں ہوگی۔ پھر یہ تضاد کیسا! دراصل یہ تضاد نہیں۔ انسان خود میں خیر اور شر دونوں قسم کی نفسیات رکھتا ہے۔ آگے پھر دونوں کی مختلف سطحیں ہیں۔ اس طرح کہ بعض لوگ بنیادی طور پر شرپسند ہوتے ہیں، مگر کبھی کبھی ان سے خیر بھی برآمد ہو جاتا ہے اور کچھ لوگ بنیادی طور پر خیر پسند ہوتے ہیں، مگر کبھی کبھی کبھار ان سے شر کا ظہور بھی ہو سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کی فکر کی بنیاد کس پہ ہے! اس کی نفسیات کی جڑیں خیر میں ہیں یا شر میں؟ فکرکے اس زاویے کے ذریعے ہم میا خلیفہ کے ماضی کے داغدار کردار کا جائزہ لیں گے۔
پورن انڈسٹری کے اداکار ہوں یا اداکارائیں، وہ جب اس انڈسٹری کا حصہ بنتے ہیں، تو اسے بطورِ پیشہ اپناتے ہیں۔ ان کے لیے یہ ذریعۂ معاش ہے۔ یوں ان تمام اداکاروں یا اداکاراؤں کو ہم بے غیرت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے جو بندہ ساری دنیا کے سامنے بے لباس ہو جائے، تو اسے سوائے بےغیرت کے اور کیا کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر بالغ فلموں (adult movies) کی اس صنعت میں داخل ہو اور پھر کسی وقت اس پہ اس دنیا کی تاریکیاں واضح ہوں، اس کا ضمیر بیدار ہو جائے، اسے اپنے ماضی کے کیے پہ پچھتاوا ہو اور وہ اس کردار سے مکمل تائب ہو جائے، تو وہ اس لائق ہے کہ اسے مہذب بے غیرت کہا یا لکھا جائے۔ بے غیرت اس کے ماضی کے حوالے سے اور مہذب اس کے حال کے حوالے سے ہے۔
مذہب کی رو سے اگر کوئی شخص اپنے مکروہ ماضی سے جان چھڑا لے، اپنی گناہ آلود زندگی سے نکل جائے، تو وہ مہذب ہے۔ خدا قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ اس کے برے ماضی کی وجہ سے اسے شرم دلائی جائے یا اسے بے غیرت پکارا........