Taraqi Ke Aage Sab Bebas Ho Gaye

ترقی کے آگے سب "بے بس " ہو گئے

آٹھویں جماعت میں تھا کہ بس سے سفر کا آغاز کر دیا۔ نویں جماعت تک کچھ عرصے روزانہ دو بسیں بدل کر اسکول آنا جانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد گھر کے پاس سے ایک بس سیدھی اسکول جانے لگی۔ کالج اور ملازمت کے ابتدائی سال بھی بس شریک سفر رہی۔ بس میں اگر سیٹ مل جائے تو نعمت ورنہ راستے بھر زحمت رہتی ہے۔ لوگوں کی چہرے پڑھنے اور کہانی بنانے کی شروع سے بیماری رہی۔

اب بسیں ہی کہاں رہیں۔ لوگوں نے موٹر سائیکلیں، گاڑیاں خرید لی ہیں۔ گھر سے ایپس کے ذریعے لانے جانے والی موٹر سائیکلیں اور کاریں دستیاب ہیں۔ پہلے اسٹیٹس کی جنگ نہ تھی۔ لوگ سادہ تھے۔ بسوں میں سفر کرکے شرمندہ نہ ہوتے۔ اگر کوئی جاننے والا مل جاتا تو نظریں نہ چراتے۔ روز کے مخصوص وقت کے مسافر ایک گھر کی طرح ہوتے۔ ان میں بھی گھر کی طرح ہر مزاج کے لوگ ہوتے۔ زیادہ تر تہزیب یافتہ ہوتے تو کچھ بدتمیز مگر روز ایک ہی وقت تھوڑی دیر کی مسافت قربت پیدا کر دیتی جس میں پیسوں کی غربت کوئی معنی نہ رکھتی تھی۔

اپا دھاپی کا دور نہ تھا۔ مسافر در گزر سے کام لیتے۔ بس چاہے بھری ہو یا خالی۔ بیٹھنے کی جگہ ملے نہ ملے مگر دل میں ایک دوسرے کے لیے جگہ ہوتی۔........

© Daily Urdu