Sheru Doodh Wala, Jaane Kahan Gaye Ye Log
شیرو دودھ والا، جانے کہاں گئے یہ لوگ
کراچی میں پہلے کون سا ایسا گھر تھا جہاں دودھ والا نہ آتا ہو۔ پھر ڈبوں میں پیک دودھ آیا تو یہ پیک ہوتے گئے۔ کم تعداد میں سہی اب بھی گھروں میں دودھ والے آتے ہیں مگر گزرے زمانے کے اپنے اپنے لگنے والے دودھ والے نہ جانے کہاں چلے گئے۔ کان ان کی آواز کو ترستے ہیں۔ کیا اچھا وقت تھا جو ان کی آمد پر وقت بتا دیتا تھا۔
"ان کا فل ٹائم کاروبار تو پانی کا ہے لیکن کمائی ساری دودھ سے ہوتی ہے"۔ یہ اور اس طرح کے جملے میں اپنے دودھ والے کو جز بز کرنے کے لیے اکثر کہا کرتا تھا۔ کبھی ہنس کر رہ جاتا تو کبھی قسمیں کھاتا اور جب زیادہ چڑ جاتا تو کہتا: تو کیا تو خود پانی نہ پیئے ہے۔ میں کہتا: خود پیتا ہوں۔ تیری طرح دودھ میں ملا کر دوسروں کو نہیں پلاتا۔ جب کبھی دودھ گرم کرنے پر زیادہ بالائی آجاتی تو کہتا: لگتا ہے کل نسوڑے کا پاوڈر زیادہ ملا دیا تھا۔
ہمارا یہ دودھ والا شیر علی تھا لیکن ہم سب اسے شیرو کہا کرتے تھے۔ لہجے سے وہ ہریانہ کا لگتا تھا۔ لگتا تھا اسے مغلوں کے زمانے میں آنا تھا لیکن دیر سے دنیا میں بھیجا گیا۔ اس کے خمیر میں تیزی طراری نہ تھی، سادگی تھی جو دل موہ لیا کرتی تھی۔ اسی وجہ سے میں اسے Late Arrival کہتا تو ہنس دیتا: یہ انگریجی ونگریجی مجھے نہ آوے۔
شیرو عمر میں مجھ سے کوئی دس سال بڑا ہوگا مگر میں نے کبھی اس فرق کو محسوس نہ کیا۔ وہ میرا دوست تھا۔ سہ پہر میں جب وہ دودھ والا کی آواز لگاتا تو میں بھگونا لے کر گیٹ کی طرف دوڑ لگاتا کیونکہ مجھے چائے جو پینی ہوتی تھی۔ والدہ لاکھ کہتیں:
اس وقت چائے پینے کی کیا تک ہے۔ پوری........
