Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (6) |
ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (6)
اگلی صبح فرح اٹھی تو وہ تازہ دم تھی۔ دن کا پہلا حصہ اس نے کزن اور دوستوں کے ساتھ گزارا۔ وہ سب فرح کی امریکا میں زندگی کے بارے میں جاننا چاہتے تھے، لیکن فرح کے گونگے اور بہرے پن کی وجہ سے وہ کچھ زیادہ نہیں بتا سکتی تھی۔ فرح نے ایک عرصے کے بعد خاندان کے ساتھ کھانا کھایا، پھر اسکے کزنز اور دوست اسے شہر گھومانے لے گئے۔ اس نے ایک مزے کا دن گزارا اور کچھ چیزیں بھی خریدیں۔ جب وہ بازار سے نکلے تو اندھیرا ہو چکا تھا۔ لڑکیوں کو نماز کے وقت سے پہلے گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ جب وہ اپنی گاڑی کے پاس پہنچے تو لڑکیاں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ وہ اپنی دن بھر کی شاپنگ کے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔ وہ باتوں میں مصروف تھیں اس بات سے غافل کہ فرح کے ساتھ کیا ہو چکا تھا۔ جب فرح لڑکیوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی تو ایک تیز رفتار وین سے کسی نے فرح کا پرس چھیننے کی کوشش کی۔ فرح پرس بچانے کے لئے وین کے ساتھ بھاگی اور آخر وین کے پچھلے حصے میں بیہوش ہو کر گر گئی۔ وین ایک نامعلوم منزل کی طرف جا رہی تھی۔
ڈرائیور کو فرح کی منزل کا پتا تھا: وہ ایک بار پھر رحیمی سے ملنے اسکے اڈے کی طرف جا رہی تھی۔ تھکی ہوئی پریشان حال فرح نے جب ادھر ادھر دیکھا تو اسے رحیمی کہیں نظر نہ آیا۔ اسکے عالیشان بلکہ رحیمی کے عالیشان دیوان پر ایک جوان سا آدمی بیٹھا تھا۔ رحیمی کے آدمی اسکی خاطر مدارات کر رہے تھے۔ اس نے دیکھا کے یہ وہی لوگ تھے جب وہ پچھلی بار یہاں لائی گئی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ سمجھ گئی کے وہ رحیمی کا بیٹا آدم رحیمی تھا۔ وہ چھبیس سالہ، بھوری آنکھیں، گھنگریالے بال اور بڑی بڑی مونچھوں والا نوجوان تھا۔ وہ فرح کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوے اپنی جگہ سے اٹھا اور آہستہ آہستہ فرح کے پاس آنے لگا۔ وہ بہت ڈری ہوئی تھی اور اچانک چیخنے لگی۔
آدم رحیمی رک گیا، اپنی پگڑی ٹھیک کی اور کہنے لگا، "ایک بار پھر خوش آمدید اور ڈرو مت، تم یہاں محفوظ ہو۔ وہ کچھ دیر فرح کے گرد گھومتا رہا اور پھر پاس اکر بولا، "میں تمہیں پسند کرتا ہوں" وہ مسکرانے لگا۔ پھر وہ واپس دیوان پر جا کر بیٹھ گیا۔ ایک ریشمی سرخ گدی سے کھیلتے ہوے اس نے پوچھا، "کیا تم مجھ سے شادی کرو گی، خوبصورت لڑکی؟" جمال رحیمی کا بیٹا فرح کو شادی کی پیش کش کر رہا تھا۔ آدم رحیمی نے واضح کیا کے اگر وہ اس سے شادی کر لے گی تو وہ اسکے خاندان کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اس طرح تمام خاندانی جھگڑے ختم ہو........