Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (4)

ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (4)

اسنے ایک ویٹر کو پانی کا گلاس لانے کو کہا۔ ویٹر پانی کا گلاس لایا اور اس سے چائے کا پوچھا عمر نے اسے جوس لانے کو کہا اور ایڈوانس میں پیسے بھی دے دیئے۔ وہ سڑک کنارے ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ جہاں سے وہ ٹیکسی کو ٹھیک ہوتے ہوے بھی دیکھ سکتا تھا۔ جوس پینے کے بعد وہ ڈرائیور کے پاس آیا اور کہا کے اگر وہ کرایہ ادا کر دے تو کیا دوسری ٹیکسی لے کر جا سکتا ہے، لیکن ڈرائیور نے کہا، " نہیں، بس دس منٹ اور"۔

عمر دوبارہ بینچ پر آکر بیٹھ گیا اور اپنا اورنج جوس ختم کرنے لگا۔ اسکے بینچ کے قریب ایک بوڑھا آدمی بری طرح کھانس رہا تھا۔ جب اس نے اس شخص کی طرف دیکھا تو بوڑھے آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے معزرت کی۔ عمر نے جواباً ہاتھ ہلا کر بتایا کے کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہے۔ اسکی نذر اس آدمی کے پاس ایک نیلے رنگ کے پلاسٹک کے آلے پر پڑی۔ اس نے عمر کو یاد دلا دی جو کچھ اسکے ساتھ کالج کے دنوں میں ہوا تھا۔ وہ پرانی یادوں میں کھو گیا۔

بہت سال پہلے ایک اتوار کی شام کسی نے اسکے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا، وہ بے خبر سو رہا تھا۔ پہلے تو اسے لگا کے وہ خواب دیکھ رہا ہے، لیکن جب دروازہ مسلسل بجتا رہا تو اس نے بے رخی سے پوچھا، "کیا مسئلہ ہے؟ کون ہے اس وقت؟" اگرچہ اسوقت شام کے پانچ بج رہے تھے اور چونکے وہ غلط وقت پر سو گیا تھا اسے وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ باہر سے جواب آیا، "ابھی صرف پانچ بجے ہیں۔۔ کیا میں تمہاری بائسیکل ادھار لے سکتا ہوں پلیز؟" عمر نے اپنا سر اٹھایا اور چلا کر بولا، "کیا تم نے بائیسکل کہا؟ بلکل نہیں، چلے جاؤ یہاں سے" اس نے بہت زور سے آنکھیں ملتے ہوئے کہا اور دوبارہ تکیئے پر لیٹ گیا۔

اسکے بعد اسے دروازے پر کوئی آواز سنای نہ دی۔ حالانکہ وہ ابھی نیند میں تھا لیکن پھر بھی اس نے اگلی دستک کا انتظار کیا۔ جب اسے کوئی آواز نہ آئی تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر آکر دیکھنے لگا کے پندرہ منٹ پہلے یہاں کون تھا۔ وہ تجسس میں تھا۔ اس نے میل باکس کے قریب ایک لڑکا دیکھا جس نے ہڈ والی جکیٹ پہنی ہوئی تھی، وہ اداس کھڑا تھا۔........

© Daily Urdu