Taxon Ka Tufan, Awami Badhali

ٹیکسوں کا طوفان، عوامی بدحالی

پاکستان کی معاشی تاریخ میں حالیہ چند برس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے حامل رہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال نے عام آدمی کی زندگی کو جس نہج پر لا کھڑا کیا ہے اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ نے ملک میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان برپا کر دیا ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اب صرف ایندھن نہیں رہیں بلکہ حکومت کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا اور آسان ذریعہ بن چکی ہیں، جس کی قیمت براہِ راست عام شہری اپنی بقا کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔

حکومتی دستاویزات کے مطابق پٹرول اب اپنی اصل قیمت سے کہیں زیادہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ پٹرول کی فی لیٹر بنیادی قیمت تقریباً 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے لیکن اس پر مجموعی طور پر 198 روپے سے زائد کے ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس میں سب سے بڑا حصہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہے جو پہلے 103 روپے تھی اور اب بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ حیران کن طور پر پٹرول پر 29 روپے فی لیٹر پریمیم، 22 روپے 74 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی 113 روپے 71 پیسے کے ٹیکسز عائد ہیں۔

حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا ہے جس کا مقصد ہر صورت ریونیو کے اہداف کو پورا کرنا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1205 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی جا چکی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 371 ارب روپے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے........

© Daily Urdu