Basant, Zinda Dilan e Lahore Ka Imtihan |
لاہور جسے زندہ دلانِ پنجاب کا مسکن کہا جاتا ہے اپنی مخصوص ثقافت، کھانوں اور تہواروں کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی پہچان رکھتا ہے۔ ان تمام رنگوں میں سب سے شوخ رنگ "بسنت" کا تھا جو برسوں پہلے عدالتی پابندیوں اور خونی ڈور کے خوف سے کہیں کھو گیا تھا۔ اب ایک طویل عرصے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فروری کے مہینے میں تین روزہ سرکاری بسنت فیسٹیول منانے کا اعلان کرکے لاہوریوں کو ایک بار پھر پیلے رنگ کی بہار اور "بو کاٹا" کے شور کی نوید سنائی ہے۔ جہاں اس فیصلے نے پتنگ بازی کے شوقین افراد کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں وہیں انسانی جانوں کے تحفظ پر مامور حلقوں اور ماضی کے زخم خوردہ خاندانوں میں تشویش کی لہر بھی دوڑ گئی ہے۔
تاریخی طور پر بسنت محض ایک کھیل نہیں بلکہ پنجاب کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے مطابق یہ تہوار تقریباً 800 سال قبل شروع ہوا جو موسمِ بہار کی آمد کا استعارہ ہے۔ بسنت پنچمی کے نام سے منسوب یہ دن دراصل قدرت کے بدلتے رنگوں کا جشن ہے۔ جب کھیتوں میں سرسوں کے زرد پھول لہلہاتے ہیں اور سردی کی شدت کم ہونے لگتی ہے تو پنجاب کی دھرتی اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے بسنتی رنگ اوڑھ لیتی ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ تہوار اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا تھا۔
شاہی قلعہ ہو یا اندرون شہر کی چھتیں، ہر طرف پیلے رنگ کی پگڑیاں، دوپٹے اور پتنگیں نظر آتی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب بسنت کسی ایک مذہب یا گروہ کا نہیں بلکہ پورے پنجاب کا........