Zaheer Ahmad Babar: Kamal Ki Khamosh Roshni

ظہیر احمد بابر: کمال کی خاموش روشنی

"دکھاوے کی کوشش مت کرو، جب کمال کو پہنچو گے تو خود ہی نظروں میں آ جاؤ گے"، یہ مختصر سا جملہ بظاہر چند الفاظ پر مشتمل ہے مگر اپنے اندر زندگی کی ایک پوری حکمت، ایک مکمل فلسفہ اور ایک عظیم انسانی تجربہ سموئے ہوئے ہے۔ آج کا انسان سب سے زیادہ اگر کسی بیماری میں مبتلا ہے تو وہ خود کو ثابت کرنے کی جلدی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ لوگ اسے دیکھیں، اس کی تعریف کریں، اس کی موجودگی کو محسوس کریں، اس کے لباس، اس کی دولت، اس کی گفتگو، اس کے تعلقات اور اس کی کامیابیوں کو سراہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دکھاوا ہمارے معاشرے کا سب سے عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔

لوگ اپنے اصل سے زیادہ اپنی تصویر بنانے میں مصروف ہیں۔ کسی کو اپنی زندگی سے زیادہ اپنی نمائش عزیز ہے۔ ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں حقیقت سے زیادہ تاثر کی قیمت بڑھ چکی ہے۔ مگر تاریخ اور فطرت کا ایک اٹل اصول ہے کہ اصل کمال کو کبھی اشتہار کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے اعلان نہیں کرتا کہ میں آنے والا ہوں۔ پھول کھلنے سے پہلے دنیا کو خبر نہیں دیتا کہ میری خوشبو راستے میں ہے۔ دریا اپنی روانی کا چرچا نہیں کرتے، پہاڑ اپنی بلندیوں کا شور نہیں مچاتے اور آسمان اپنی وسعتوں کی تشہیر نہیں کرتا۔ جو واقعی عظیم ہوتا ہے، وہ اپنی ذات کی طاقت سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ اپنے دعووں سے۔

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ نتیجہ حاصل کرنے سے پہلے پذیرائی چاہتا ہے۔ طالب علم علم حاصل کرنے سے پہلے دانشور بننے کا خواب دیکھنے لگتا ہے۔ لکھنے والا مطالعے اور ریاضت سے پہلے شہرت چاہتا ہے۔ کاروبار شروع ہونے سے پہلے کامیاب تاجر کہلانے کی خواہش دل میں جنم لے لیتی ہے۔ عبادت میں خشوع پیدا ہونے سے پہلے پارسائی کا تاثر پیدا کرنے کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ یہی جلد بازی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اصل کمال مسلسل محنت، خاموش جدوجہد، صبر، استقامت اور خود احتسابی سے پیدا ہوتا ہے۔

جو شخص ہر وقت اپنی تشہیر میں لگا رہے، وہ اپنی توانائی کا بڑا حصہ لوگوں کو متاثر کرنے میں خرچ کر دیتا ہے، جبکہ جو شخص خاموشی سے اپنی........

© Daily Urdu