George Washington Ke 110 Usool e Shaistagi o Tehzeeb |
جارج واشنگٹن کے 110 اصول شائستگی و تہذیب
كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!
"اور واقعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ فطرت اور قسمت نے کبھی کسی انسان کو عظیم بنانے کے لیے اس قدر کامل طور پر باہم اشتراک نہیں کیا"
جارج واشنگٹن کا تھامس جیفرسن کے نام خط، تقریباً 1814ء
سولہ برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے جارج واشنگٹن نے اپنے ہاتھ سے "آدابِ معاشرت اور شائستہ برتاؤ" کے ایک سو دس اصول نقل کیے۔ یہ اصول دراصل 1595ء میں فرانسیسی یسوعی علما کے مرتب کردہ قواعد پر مبنی تھے۔ غالب گمان یہ ہے کہ نوجوان واشنگٹن نے انہیں خوشخطی کی مشق کے طور پر اپنے استاد کے حکم پر نقل کیا۔ ان فرانسیسی اصولوں کا پہلا انگریزی ترجمہ 1640ء میں شائع ہوا، جسے ایک طبیب کے بارہ سالہ بیٹے فرانسس ہاکنز سے منسوب کیا جاتا ہے۔
مصنف رچرڈ بروکھائزر نے اپنی کتاب میں لکھا: "مغربی دنیا کے جدید آداب اصل میں اشرافیہ کے آداب تھے۔ شائستگی سے مراد دربار کے مناسب طرزِ عمل تھا، اور، شجاعت کا لفظ فرانسیسی لفظ شوالیے یعنی، سپاہی سے نکلا ہے۔ مگر واشنگٹن نے خود کو امریکہ کو درباری تسلط سے آزاد کرانے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ کیا ایسے میں آداب باقی رہ سکتے تھے؟ یسوعی مصنفین اور ان اصولوں کو نقل کرنے والا نوجوان شاید خود بھی نہ جانتے تھے کہ وہ مساوی اور قریب المساوی انسانوں کے درمیان باہمی احترام کا ایک نظام ترتیب دے رہے ہیں۔ جب اس شائستگی کا دائرہ ایک محفل سے بڑھ کر پوری قوم تک پھیل گیا تو واشنگٹن اس کے لیے تیار تھا۔ پادری ویمز نے درست کہا تھا: ، اس میں کوئی حیرت نہیں کہ ہر شخص اس کا احترام کرتا تھا، کیونکہ وہ ہر شخص کا احترام کرتا تھا"۔
اصولِ شائستگی و تہذیب
1۔ ہر وہ عمل جو دوسروں کی موجودگی میں کیا جائے، اس میں حاضرین کے احترام کی کوئی نہ کوئی علامت ضرور ہونی چاہیے۔
2۔ مجلس میں اپنے جسم کے ان حصوں کو نہ چھیڑو جو عام طور پر ڈھانپے جاتے ہیں۔
3۔ اپنے دوست کو ایسی کوئی چیز نہ دکھاؤ جو اسے خوفزدہ کر دے۔
4۔ دوسروں کی موجودگی میں گنگنانا، انگلیوں یا پاؤں سے تھاپ دینا مناسب نہیں۔
5۔ اگر کھانسی، چھینک، آہ یا جمائی آئے تو آہستگی اور پردے سے کرو، جمائی لیتے وقت بات نہ کرو بلکہ رومال یا ہاتھ منہ پر رکھ کر رخ پھیر لو۔
6۔ جب دوسرے گفتگو کر رہے ہوں تو مت سوؤ، جب سب کھڑے ہوں تو نہ بیٹھو، جب خاموش رہنا چاہیے تو نہ بولو اور جب دوسرے رک جائیں تو آگے نہ بڑھو۔
7۔ دوسروں کے سامنے کپڑے نہ اتارو اور نہ ہی نیم لباس میں کمرے سے باہر نکلو۔
8۔ کھیل یا آگ کے پاس بیٹھنے میں نئے آنے والے کو جگہ دینا اچھے آداب ہیں اور معمول سے زیادہ اونچی آواز میں بولنے کی کوشش نہ کرو۔
9۔ آگ میں تھوکو نہیں، نہ اس کے سامنے بہت جھکو، نہ ہاتھ شعلوں میں ڈال کر گرم کرو اور نہ پاؤں آگ پر رکھو، خاص طور پر جب کھانا سامنے ہو۔
10۔ بیٹھتے وقت پاؤں سیدھے اور برابر رکھو، ایک پاؤں دوسرے پر نہ رکھو اور نہ انہیں الجھاؤ۔
11۔ دوسروں کے سامنے بدن نہ کھجاؤ اور نہ ناخن چباؤ۔
12۔ سر، پاؤں یا ٹانگیں نہ ہلاؤ، آنکھیں نہ گھماؤ، ایک بھنو دوسری سے زیادہ نہ اٹھاؤ، منہ نہ بگاڑو اور بات کرتے ہوئے اتنا قریب نہ جاؤ کہ تمہاری تھوک دوسرے کے چہرے پر جا پڑے۔
13۔........