Dajla: Ghair Mamooli Hone Ki Waba |
دجلہ: غیر معمولی ہونے کی وبا
شفیق الرحمٰن نے اپنی بے مثال کتاب "دجلہ" میں ایک جگہ لکھا ہے: "وہ دن گئے جب بیشتر لوگ نارمل ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب ہر شخص غیر معمولی ہے اور اسے ذہنی الجھنیں پیدا کرنے کا خاص شوق ہے کہ کہیں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائے۔ " یہ ایک مختصر جملہ ہے مگر اپنے اندر پورے عہد کی داستان سمیٹے ہوئے ہے۔ بعض اوقات بڑے فلسفے موٹی موٹی کتابوں میں بیان ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک مزاح نگار چند الفاظ میں زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ دیتا ہے۔ شفیق الرحمٰن نے ہنستے ہنساتے ہوئے ہمارے معاشرے کی ایک ایسی بیماری کی نشاندہی کی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ انسان ہمیشہ سے منفرد ہونا چاہتا تھا، لیکن آج کا انسان صرف منفرد نہیں ہونا چاہتا بلکہ دوسروں سے زیادہ منفرد نظر آنا چاہتا ہے۔ پہلے لوگ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نمایاں ہوتے تھے، اب نمایاں ہونے کے لیے صلاحیت ضروری نہیں رہی، صرف شور کافی ہے۔ جو جتنا زیادہ شور مچاتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سادگی، اعتدال اور توازن اب انسانی خوبیوں کی فہرست سے خارج ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ مصنوعی پیچیدگی، بناوٹی گہرائی اور خود ساختہ مسائل نے لے لی ہے۔
یہ عجیب زمانہ ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کو ایک معمہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ پہلے لوگ مسئلے حل کرنے کی کوشش کرتے تھے، اب مسائل پیدا کرنے میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ کسی کو اپنی شخصیت میں غیر معمولی پن دکھانا ہے، کسی کو اپنے........