Cheeni Jadeediat, Insan Aur Fitrat Ke Darmiyan Ham Ahangi Ka Naya Tasawur |
دنیا بھر میں جدیدیت کا مطلب عموماً تیز رفتار ترقی، صنعتی انقلاب، بڑے شہروں کی تعمیر اور معاشی دوڑ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر ممالک نے جب ترقی کا سفر اختیار کیا تو انہوں نے فطرت کو قربان کرکے اس دوڑ میں حصہ لیا۔ جنگلات کٹے، ندیاں آلودہ ہوئیں، آب و ہوا کا توازن بگڑا اور زمین انسان کی بے تحاشا سرگرمیوں سے زخمی ہوتی چلی گئی۔ لیکن چین نے جدیدیت کا جو ماڈل پیش کیا ہے وہ اس روایتی تصور سے مختلف ہے۔ چینی جدیدیت کی روح میں یہ اصول شامل ہے کہ ترقی اور فطرت ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ دونوں کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔ یہی وہ بنیادی فلسفہ ہے جسے سمجھنا آج کی دنیا کے لیے ضروری ہو چکا ہے۔
چین نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ فطرت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اگر زمین کی سانس بند کر دی جائے تو انسان کی زندگی کا سفر بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ اسی سوچ نے چین کو مجبور کیا کہ وہ ایسا ماڈل تشکیل دے جس میں انسان اور فطرت کے درمیان ہم........