Bachon Ko Ai Se Door Rakhein |
بچوں کو اے آئی سے دور رکھیں
گزشتہ رات مجھے ایک والد کی جانب سے فون موصول ہوا جنہوں نے بتایا کہ ان کی بچی ساتویں جماعت میں پڑھتی ہے اور موبائل فون لے کر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے اپنی ریاضی کے نصابی سوالات حل کرواتی ہے اور پھر ان سوالات کے جوابات بغیر سمجھے اپنی کاپی میں لکھ دیتی ہے۔ والد نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ان کی بچی درست کررہی ہے؟ میں نے ان کی بات غور سے سنی اور انہیں یہی مشورہ دیا کہ بچی کو اے آئی کے اس استعمال سے روکا جائے کیونکہ بظاہر وہ اپنا ہوم ورک مکمل کررہی ہے لیکن حقیقت میں وہ ریاضی نہیں سیکھ رہی بلکہ صرف سوال کا تیار جواب حاصل کررہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں یا انہیں ہر مشکل کام سے بچانے کے لیے ایسی مشینیں دے رہے ہیں جو ان کی جگہ سوچ سکیں۔
تعلیم کا مقصد بچے کو ہر سوال کا فوری جواب دینا نہیں بلکہ اس کے اندر سوال کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے اور خود جواب تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ بچے کی ذہنی نشوونما اسی عمل سے ہوتی ہے اور ابتدائی عمر میں یہ عمل سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی واقعے کے بعد میں نے اس مسئلے کو مزید سمجھنے کے لیے مختلف ممالک میں مصنوعی ذہانت اور تعلیم سے متعلق حالیہ پالیسیوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ تعلیمی نظام کم عمر بچوں کو جنریٹو اے آئی کے آزادانہ استعمال سے روکنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بعض جگہوں پر ابتدائی جماعتوں میں پابندی عائد کی گئی ہے اور بعض جگہوں پر آٹھویں جماعت تک طلبہ کے لیے اے آئی کے براہ راست استعمال کو محدود کیا گیا ہے۔
ناروے نے 2026 میں فیصلہ کیا کہ ابتدائی جماعتوں میں طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی کا عمومی آزادانہ استعمال نہیں ہوگا اور جماعت اول سے ہفتم تک بچوں کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کو ترجیح دی جائے گی۔ امریکہ کے نیویارک سٹی نے بھی 2-K سے جماعت آٹھ تک طلبہ کے لیے student-facing generative AI پر ایک سال کی پابندی عائد کردی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ دنیا کے جدید ترین تعلیمی نظام بھی اب اس........