Malik Yusuf Ke Dramay (2) |
ایک صبح ملک یوسف کو زیلونی بازار جبکہ مجھے کلاس کو جانا تھا، کمرے کی چابی میں اپنے ساتھ لے گیا، اتفاق سے میڈم وکٹوریہ نے ناساز طبع کے باعث کلاس جلدی ختم کردی، اورنگزیب مجھے ساتھ لیکر ایک افغانی کے فلیٹ، واقع عقب پلوشد تھیٹر ایریا میں گئے، وہاں کافی دیر بیٹھے، اورنگزیب واپسی کا نام نہ لے، اسے بتایا "کمرے کی چابی میرے پاس ہے اور ملک یوسف انتظار کر رہا ہوگا"۔ طویل وقت گذار کر واپس آتے راستے میں اورنگزیب شروع ہوگیا "یہ اپارٹمنٹ ہمارا ہے، فلاں بھی اور فلاں بھی"۔ میں نے کہا "وہاں دوسرے لوگ رہتے ہیں، تمہارا فلیٹ کیسے ہوگیا؟" میرے الفاظ اسے بہت چبھے تھے، لمبی لمبی چھوڑنا اور نئے آنے والوں کو دبانے کی کوشش کرنا اس کی عادت تھی، بعد میں اس نے بغض بھی بہت نکالا، جب واپس آئے تو عصر کے چار بج چکے تھے اور ملک یوسف بہت ناراض تھا۔
لیاقت خان کے کمرے میں عزیر اچکی نے ملک یوسف کو اپنے فلیٹ پر آنے کی دعوت دی، شام کو وہاں اس کی گرل فرینڈ الونا (بعد میں اس کی بیوی بنی) بھی موجود تھی، یہ بڑا دلچسپ کیریکٹر تھی، دونوں کے مابین اکثر لڑائی جھگڑے ہوتے، جھگڑوں کا سبب الونا کا دوسرے لڑکوں سے بات چیت کرنا تھا جو عزیر اچکی کو ناگوار گزرتا تھا، ملک یوسف نے لذیذ آلو گوشت بنا کر پیش کیا، الونا نے کچھ زیادہ تعریف کر دی، ملک یوسف نے مترجم کی مدد سے الونا کو ایسا الجھایا کہ وہ بھی اس کی گرویدہ ہوگئی، اس کی باتوں پر ہنس ہنس لوٹ پوٹ ہوتی، ملک نے اسے حکم دیا کہ میری انگلیوں کے کڑاکے نکالو، الونا نے اپنے نرم و ملائم انگلیوں کو اس کی طاقتور انگلیوں میں پھنسا کر زور زور سے جھٹکے مارے، اسے چِڑیا اُڑی کوا اُڑا گیم سمجھائی اور دونوں کھیلنے لگے، میں کن اکھیوں سے دیکھا کہ عزیر اچکی کے تیور بدل رہے تھے۔
ایک دن ہم "سنترم سنترم" ایڈونچر کرکے ہوسٹل کے سٹاپ پر اترے تھے کہ درخت کے نیچے الونا روتی نظر آئی، معلوم ہوا کہ عزیر اچکی کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے، ملک نے اُسے بُلا بھیجا، وہ نیچے آیا، بہت غصے میں تھا، بولا "یہ مر جائے، جہاں دل چاہے جائے لیکن........