menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kilo Gosht Wala Shopper

24 0
21.05.2026

برصغیر بالخصوص پاکستان میں ایک دلچسپ قسم کا معاشرتی فلسفہ پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ پڑھائی میں دل نہ لگائے، صبح دس بجے تک سویا رہے، ہر وقت دوستوں کے ساتھ گلی کے نکڑ پر سیاسی تجزیے کرتا پھرے اور گھر والے یہ سمجھ جائیں کہ اب یہ قومی اثاثہ بننے سے رہا، تو فوراً خاندان کا کوئی بزرگ عینک اتار کر سنجیدہ لہجے میں کہتا ہے کہ اسے سعودیہ بھیج دو، وہاں جا کر سیدھا ہو جائے گا، جیسے سعودی عرب انسانی ریفارم سینٹر ہے، جہاں جہاز سے اترتے ہی نکھٹو نوجوان کے اندر اچانک ذمہ داری، محنت اور وقت کی پابندی انسٹال ہو جاتی ہے، ہمارے ہاں تو بعض اوقات بچے کے رزلٹ سے زیادہ اس کے پاسپورٹ کی فکر کی جاتی ہے، امّی کہتی ہیں کہ بیٹا پڑھ لو، ورنہ سعودیہ جانا پڑے گا اور لڑکا جواب دیتا ہے کہ امی فکر نہ کریں، ویزہ لگ گیا تو پھر دیکھنا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی آوارہ لڑکا جب سعودیہ پہنچتا ہے تو چند مہینوں بعد اس کی تصویریں آنا شروع ہو جاتی ہیں:

سفید شلوار قمیض، ہاتھ میں قہوہ، چہرے پر سنجیدگی اور کیپشن:

Life teaches you everything.

وہی بندہ جو پاکستان میں دوپہر سے پہلے بیدار نہیں ہوتا تھا، سعودیہ میں فجر سے پہلے اٹھ کر ڈیوٹی پر جا رہا ہوتا ہے، خاندان حیران ہو کر کہتا ہے کہ ماشاء اللہ، عرب کی ہوا ہی ایسی ہے، اصل میں بات یہ ہے کہ پردیس انسان کو ذمہ داری سکھا دیتا ہے، جب بندہ گھر کی بریانی، دوستوں کی محفل اور رشتے داروں کی حاسد نگاہوں سے دور ہوتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی صرف موبائل، چائے اور گپوں کا نام نہیں، اسی لیے بہت سے نوجوان جو پاکستان میں لاپرواہ دکھائی دیتے تھے، خلیجی ممالک جا کر نہ صرف خود بدلتے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کا سہارا بھی بن جاتے ہیں، لہٰذا یہ جملہ اگرچہ مزاحیہ انداز میں بولا جاتا ہے کہ نکھٹو ہو تو سعودیہ بھیج دو، مگر اس کے پیچھے ایک حقیقت بھی چھپی ہے کہ پردیس بہت سے لوگوں کو سنجیدہ، مضبوط اور ذمہ دار بنا دیتا ہے، جبکہ تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی........

© Daily Urdu