Easter Ki Raat

اپریل 2000 کا مہینہ آ گیا تھا، مزید برفباری کا امکان نہ تھا اور ہر طرف برف پگھلنا شروع ہو چکی تھی، جہاں برف کے ڈھیر تھے وہاں اب پانی کے جوہڑ نظر آتے تھے، فٹ پاتھ کے ساتھ بہتا پانی نیچے دریا کی طرف گامزن نظر آتا، یہ منظر بڑا پیارا تھا، موسم یکسر بدل چکا تھا، گرچہ گرمی بڑھنا شروع ہو چکی تھی لیکن پیاری، ٹھنڈی ہوا چلتی تھی، دریا کنارے عجب بہار ہوتی تھی، اوکیان پلوشد والا فلیٹ ہم نے چھوڑ دیا تھا، اکبر جلال پاکستان گیا ہوا تھا اور جونی عارضی طور پر اس کے پارٹمنٹ منتقل ہوگیا تھا، زہرہ کے ساتھ ہماری صلح ہو چکی تھی، کبھی کبھار اس سے ملنے جاتے تھے۔

ایسٹر کی تعطیل تھی، مدنی کو ساتھ لیکر زہرہ کے گھر گیا، زہرہ نے بتایا، "اوکسانہ ایک دن اپنی ماں کے ہمراہ آئی تھی، وہ ماں کے سامنے بڑی چاپلوس اور مہذب بن رہی تھی، وہ اپنی ماں کو بتا رہی تھی کہ وہ اکثر اس فلیٹ میں آتی ہے تو میں نے صاف بتا دیا کہ جھوٹ بولتی ہے، یہ فقط ایک مرتبہ یہاں ایش کے ساتھ آئی تھی تو جھٹ سے نکال باہر کیا تھا، اس کی ماں اچھی عورت محسوس ہوئی، اس نے بتایا کہ اوکسانہ ایک بگڑی ہوئی بچی ہے اور اکثر راتوں کو گھر سے باہر رہتی ہے"۔ یعنی معاملہ گڑ بڑ تھا، اس نے مزید بتایا "اب کبھی کبھار یہاں آتی ہے اور بڑی شریف بچی بن کر تیرے بارے پوچھتی ہے لیکن میں اسے کچھ نہیں بتایا" اور مجھے نصیحت کی "اُس سے دُور رہنا تیرے لئے بہتر ہے"۔ اس نصیحت پر میں نے من و عن عمل کیا۔

واپسی پر ہوسٹل کے استقبالیہ پر میرے لئے پیغام موجود تھا، اولگا کا نام دیکھ کر اسے فون کیا، پوچھتی "آج کیا کر رہے ہو؟" کرنے کو کوئی خاص کام نہ تھا، بتایا کہ فارغ ہی ہوں، وہ پوچھتی "میرے ساتھ قبرستان چلو گے؟" میں ہنسا "کوئی جادو ٹونا کرنا چاہتی ہو یا کوئی لاش دفنانے کیلئے مزدور کی تلاش ہے؟" وہ بھی ہنسی "آج ایسٹر ہے اور ہم اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں"۔ میں حامی بھر لی، وہ بولی "ایل ڈے راڈو پہنچو وہاں سے بس تبدیل کرنی ہے"۔ میں جب پہنچا تو وہ مجھ سے پہلے ہی پہنچ چکی تھی، سیاہ ماتمی لباس میں ملبوس، سر پر سکارف باندھا ہوا تھا، بس میں بیٹھ کر قبرستان والے بس سٹاپ پر اترے، یہ آخری سٹاپ تھا، وہاں سے کچھ پیدل چلے۔

سامنے کچا شہر خموشاں تھا، قبرستان میں داخل ہونے سے پہلے بیرونی طرف، پھول اور شراب بیچنے والوں کے ٹھیلے بھی نظر آئے، وہاں سے اولگا نے پھول خریدے، میں پیسے دینا چاہے تو روک دیا، تب میں اپنی طرف سے پھول خریدے، قبرستان میں شاندار صفائی اور ترتیب تھی، اتنی صفائی پاکستان میں ماسوائے اسلام آباد کبھی دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا، ہر قبر کے سرہانے نام کی تختی نصب، کچھ قبروں کی ساخت سے محسوس ہوتا تھا کہ قبر میں لیٹا قیامت کا منتظر کس دنیاوی حیثیت کا مالک تھا، امراء کی قبریں اور غرباء کی قبریں، کئی قبروں پر منچلوں نے شراب کی مکمل یا آدھ پی بوتل بطور مردے کے ایصال ثواب کیلئے رکھ چھوڑی تھی کہ کوئی بھولا بھٹکا پیاسا شرابی اُدھر آ نکلے تو اپنی پیاس بجھا سکے اور مردے کو اگلے جہان میں راحت پہنچے۔

یہ منظر میرے لئے نیا تھا، اولگا ایک قبر کے پاس رُکی "یہ میری دادی اور ساتھ دادا کی قبر ہے، دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے، مر کر بھی جُدا نہ ہوئے"۔ اس کے بعد کچھ قبریں اس کے فیملی ممبرز کی تھیں، ہم نے قبروں پر پھول بکھیرے، اولگا نے اپنے پرس میں سے پرندوں کے دانے کی تھیلی نکالی اور قبروں پر بکھیرے، پرس سے بائبل نکالی، کچھ دیر پڑھتی رہی، میں بھی احتراماً خاموش کھڑا، وہاں ویلنٹینا اور اس کی چھوٹی بہن تانیہ بھی ملیں، وہ اپنی ماں کی قبر پر آئی تھیں۔

واپسی پر دوپہر ہو چکی تھی، دوبارہ ایل ڈے راڈو اترے اور وہاں لنچ کیا، لنچ کے دوران اولگا بولی "آج ہم سب چرچ جائیں گے، تم بھی ساتھ چلو"۔ میں پوچھا "میرا چرچ میں کیا کام؟" وہ ہنس کر بولی "تم خدا کو مانتے ہو یا نہیں؟" میں جواب دیا "بے شک، خدا کو وحده و لا شريك له مانتا ہوں"۔ اس نے بتایا "ایسٹر کی رات خصوصی عبادت اور دعائیہ تقریب ہوتی ہے، یہ رات ہم چرچ میں گذارتے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ تم بھی اس وقت میرے ساتھ رہو"۔ میں پوچھا "ساری رات؟" وہ بولی "یوں تو ساری رات عبادت ہوتی ہے، بارہ بجے ایک خصوصی دعا، اس کے بعد جو گھر جانا چاہے وہ جا سکتا ہے اور جو صبح تک عبادت کرنا چاہے وہ رُک سکتا ہے"۔ میرے پاس اب انکار کی گنجائش نہ تھی، سوچا کہ ساتھ جانے میں کوئی ہرج نہیں، چلتے ہیں، دیکھتے ہیں، طے پایا کہ رات کو دس بجے ملتے ہیں۔

سیمی پلاٹنسک شہر میں دو چرچ تھے، ایک زہرہ والے فلیٹ کے پاس، بڑا خوب صورت نیلے رنگ کی عمارت، جب گھڑیال گھنٹہ بجاتا تو زہرہ کے فلیٹ میں آواز آتی تھی، دوسرا چرچ دور تھا، یہ زیلونی بازار کے پرے واقع تھا، وقت مقررہ پر اولگا آئی، سر پر سکارف بھی تھا، پیدل چرچ پہنچے، وہاں بہت رش تھا، گویا پورا شہر ہی امڈ آیا تھا، چرچ کی بلڈنگ باہر سے بہت بڑی نظر آئی، مرکزی دروازے کے باہر کئی شناسا چہرے نظر آئے، سب سے سلام ہوئی، میں وہیں کھڑا ہوگیا، اولگا اندر گئی اور بڑے پادری کو ساتھ لے آئی، میرا تعارف کروایا، بڑے پادری نے بڑی خوش دلی سے "دراست وچے" بول کر اندر آنے کی دعوت دی، میں تذبذب کا شکار ہو کر رکا تو وہ بولا "میرے بچے، یہ خدا کا گھر ہے اور خدا کا گھر سب کیلئے ہوتا ہے، تمہارے مسلمان ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تم اندر آ سکتے ہو"۔

اس نے میرے ہاتھ میں ایک جلتی موم بتی پکڑائی اور دونوں شانوں پر مقدس پانی چھڑک کر اپنے ساتھ اندر لے گیا، میں اِدھر اُدھر دیکھنے لگا، ہال کھچا کھچ بھرا تھا، ایک غیر ملکی کی آمد سب کیلئے حیران کُن تھی، چرچ اندر سے بھی بہت خوب صورت بنا تھا، ہال بلند ستونوں پر ایستادہ تھا، اونچے پلیٹ فارم پر حضرت عیسیٰؑ کی مصلوب شبیہہ نصب تھی اور نیچے لوگ کھڑے دعائیں پڑھ رہے تھے، اولگا میرا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے گئی اور دعا پڑھنے والوں کے ساتھ شامل ہو کر دعا پڑھنے لگی، میں اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا، مجھےخاموش دیکھ کر بولی "یہ موم بتی اپنے ہاتھ میں بلند کئے رکھو"۔

ہدایات دیکر وہ پھر سے دعا پڑھنے میں مشغول ہوگئی، دعا پڑھتے دو دو زانو ہو کر دونوں گھٹنے زمین پر ٹیک کر بیٹھ گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بھی ساتھ بٹھا لیا، اب وہ آنکھیں بند کئے، دونوں ہاتھ دعائیہ اندار میں جوڑ کر، منہ ہی میں منہ کچھ پڑھ رہی تھی، میں اسے ٹوکنا یا کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا اور خاموشی اختیار کئے موم بتی تھامے بیٹھا رہا، گاہے گاہے میری نظر اس کے چہرے پر پڑتی، دعا پڑھتے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے، اُس وقت وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچی ہوئی تھی، میں دخل اندازی کرنا مناسب نہ سمجھا، آدھ گھنٹے بعد دعا مانگ کر فارغ ہوئی تو میری طرف دیکھ کر منہ میں کچھ پڑھ کر مجھ پر پھونکا، اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا، آنکھیں پانی سے لبریز تھیں، اس نے جلدی سے آنسو پونچھے، میرا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی اور باہر کی طرف چلے۔

باہر کھلی ہوا میں سانس لئے، پھیری والے موجود تھے، ان سے کچھ لیکر کھایا، رش سے ہٹ کر ایک سائیڈ پر بیٹھے، میں اس سے پوچھا "کیا دعا مانگ رہی تھی؟" وہ سنجیدگی سے بولی "تمہاری صحت و سلامتی کی دعا"۔ میں پوچھا "اپنے لئے بھی کچھ مانگ لیتی"۔ وہ اسی سنجیدگی سے بولی "کچھ دعائیں بتائی نہیں جاتیں" اتنے میں اجتماعی دعا کا اعلان ہوا، وہ میرا ہاتھ تھام کر پھر اندر لے گئی، اجتماعی دعا سے فارغ ہوئے تو رات کے ساڈھے بارہ بج چکے تھے، میں اب تھک چکا تھا، بڑے پادری سے مل کر باہر نکلے تو ہمارے رشین گروپ کے کئی ممبرز موجود تھے، مجھے دیکھتے ہی سب ہماری طرف آگئے، اکثریت کا اولگا سے تعارف نوروز والی تقریب میں ہو چکا تھا، ماشا نے بتایا کہ وہ سب اندر موجود تھے اور ہمیں دیکھ رہے تھے، ماشا کا بھائی غائب تھا، اسے تلاش کیا، ایک کونے میں اکڑوں سویا پڑا تھا، ماشا نے اس کے اوپر پانی پھینک کر اسے جگایا، لڑکیوں نے یہ رات گھر سے باہر گذارنی تھی اور اپنے گھر والوں سے پہلے ہی اجازت لے چکی تھیں، وہیں ماشا کی ماما سے میری ملاقات ہوئی، ماشا نے اسے بتایا کہ وہ ہمارے ساتھ جانا چاہتی تھی، اجازت لیکر ہم سب نکلے، ماشا کا بھائی بھی ساتھ تھا۔


© Daily Urdu