Dabbu Ne Billi Maar Di |
لینن ہوسٹل کوئی عام رہائش گاہ نہیں تھی بلکہ کرداروں کی ایسی نمائش گاہ تھی کہ آج بھی یادوں کی گیلری میں سب سے نمایاں فریم وہیں کا ہے، ہر کمرے میں ایک کہانی، ہر کہانی میں ایک کردار اور ہر کردار اپنی جگہ مکمل ڈرامہ، انہی زندہ جاوید کرداروں میں ایک نہایت دلچسپ اور دل کے قریب شخصیت میرے پیارے دوست (درحقیقت دردِ سر) علی سہیل عرف ڈبو موٹا کا تعلق ملتان سے تھا، والدین کے اکلوتے سپوت جسے گھر والے شیشے کے گلاس کی طرح سنبھالتے تھے مگر موصوف نے ضد ایسی لگائی کہ بیرونِ ملک پڑھائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے، ضد بھی وہ جس میں آنسو، جذبات اور مستقبل تینوں شامل ہوں، نتیجہ یہ نکلا کہ والدین نے دل پر پتھر رکھ کر اجازت دے دی اور لینن ہوسٹل کو ایک نیا کردار مل گیا۔
ہمارے کمرے سے صرف دو کمرے چھوڑ کر ڈبو موٹا اور چوہدری غلام مصطفے آرائیں فرام ننکانہ حال مقیم لاہور رہائش پذیر تھے، دونوں ہی قد و قامت میں ایسے کہ دروازہ پہلے سلام کرتا، پھر راستہ دیتا، کھانے کے شوقین بھی ایسے کہ اگر کچن میں خوشبو آ جائے تو سمجھ لیں دونوں میں سے ایک نے کھانا سونگھ لیا ہے، کھانے کو وہ کھانا نہیں بلکہ چیلنج سمجھتے تھے اور اکثر یہ چیلنج پلیٹ خالی کرکے جیت بھی لیتے تھے، سچ کہوں تو لینن ہوسٹل کی یادیں، اس کے ڈرامے اور ایسے کردار زندگی کے وہ اثاثے ہیں جو نہ بینک میں........