Mojtaba Khamenei, Parde Ke Peeche Wala Aadmi |
مجتبٰی خامنہ ای، پردے کے پیچھے والا آدمی
کہتے ہیں میدان جنگ میں پرچم نہ گرنے دینا، آدھی جنگ جیتنے کے مترادف ہے۔ اس حساب سے، شہید خامنہ ای کے بیٹے مجتبٰی خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر نامزدگی اور انتخاب، حملہ آور امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے منہ پر کسی بھی سٹیلتھ میزائل سے بڑی چپیڑ ہے۔
تاریخ میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو طاقت کے قریب رہتے ہیں مگر خود کبھی روشنی میں نہیں آتے۔ وہ فیصلے کرتے ہیں مگر فیصلوں پر ان کا نام نہیں ہوتا، وہ حکم دیتے ہیں مگر زبان کے بجائے اشارے سے، وہ سنتے ہیں مگر کبھی بولتے نہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای تین دہائیوں تک ایسے ہی رہے۔ نہ کوئی تقریر، نہ کوئی جمعے کا خطبہ، نہ کوئی انتخابی امیدواری، نہ کوئی وزارت۔ بیشتر ایرانی اُن کا چہرہ جانتے تھے مگر آواز نہیں اور آج وہی آدمی چھپن برس کی عمر میں، ایک جنگ کے عین بیچ، اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر بن گیا ہے۔ میں ایران کا ماہر ہونے کا دعویٰ ہرگز نہیں کرتا، تاہم ایرانی نفسیات کا تجزیہ سامنے رکھتے ہوئے، آج سے ہفتہ قبل، جب ایران جنگ پر لکھا تو یہی پیشین گوئی کی تھی، جو آج پوری ہوگئی۔
یہ واقعہ محض ایک جانشینی نہیں ہے۔ یہ ایک نفسیاتی داستان ہے جو چالیس سال پہلے شروع ہوئی تھی۔
مجتبیٰ کی پیدائش 8 ستمبر 1969 کو مشہد میں ہوئی، وہ شہر جو ایران کی مذہبی روح کا دارالخلافہ ہے، جہاں امام رضا کا روضہ ہے اور جہاں عقیدے کی جڑیں سطح سے کہیں گہری اتری ہوئی ہیں۔ اس کے بچپن کا زمانہ وہ تھا جب ایران انقلاب کی آگ میں پک رہا تھا اور اس کے باپ علی خامنہ ای ایک اہم مگر ابھی غیر اقتداری شخصیت تھے۔ پھر 1979 آیا، پھر جنگ آئی، پھر باپ 1981 میں صدر بنا، پھر 1989 میں خمینی کی موت کے بعد وہ سپریم لیڈر بن گیا۔ مجتبیٰ نے بیس برس کی عمر میں دیکھا کہ طاقت کیسے منتقل ہوتی ہے، کس کے ہاتھوں منتقل ہوتی ہے اور کون فیصلہ کرتا ہے کہ یہ منتقلی ہوگی یا نہیں۔
اس مشاہدے نے اس کی پوری شخصیت کی تعمیر کی۔
اس سے بھی پہلے، 1986 میں، جب مجتبیٰ صرف سترہ برس کا تھا، اسے ایران عراق جنگ کے محاذ پر بھیجا گیا۔ حبیب بٹالین میں اس نے وہ کچھ دیکھا جو صرف جنگ دکھا سکتی ہے، مٹی میں دفن دوست، بے نام قبریں اور وہ خاموش زبان جو بارود سکھاتا ہے۔ اُس بٹالین میں جو لوگ اس کے ساتھ تھے وہ بعد میں آئی آر جی سی(اسلامک ریزولوشنری گارڈز کور) کے سب سے طاقتور افسر بنے، حسین تائب جو آئی آر جی سی انٹیلی جنس کے سربراہ بنے، حسین نجات جو تہران کی سیکورٹی کا کمانڈر بنا۔ محاذ پر بنے یہ رشتے اُس نے برسوں تک سینچے اور یہی وہ نیٹ ورک بنا جو آج اقتدار کی اصل بنیاد ہے۔ جنگ نے اسے ہتھیار نہیں دیے، اس نے اسے آدمی دیے۔
جنگ کے بعد مجتبیٰ قم کے حوزہ علمیہ میں آیا۔ یہاں اس نے جو استاد چنا وہ ایک انتہائی اہم انتخاب تھا۔ آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی۔ وہ شخص جس نے کہا کہ انبیاء کرام کثرت رائے میں یقین نہیں رکھتے تھے، صرف ایک رائے صحیح ہوتی ہے۔ وہ شخص جس نے کہا کہ عوام بھیڑوں کی مانند ہیں۔ وہ شخص جس نے لکھا کہ ایران کو "خاص ہتھیار" حاصل کرنے کا حق ہے اور ایرانی تجزیہ کار جانتے تھے اس سے ان کی مراد جوہری ہتھیار تھے۔ جمہوریت کے بارے میں مصباح یزدی کا موقف یہ تھا کہ اگر عوام خدا کی........