menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dunya Qayamat Ki Chaal, Chal Gayi

21 0
16.06.2026

دنیا قیامت کی چال، چل گئی

الماتی، قازقستان کی 12 جون کی صبح، زندگی کی اُن چند صبحوں میں سے ایک ہے جنہیں بندہ دیر تک گنتا رہتا ہے۔

ریپبلک پیلس کا مرکزی ہال۔ ڈھائی ہزار کرسیاں اور تقریباً سب بھری ہوئی۔ اسٹیج پر تین آدمی۔ ایک طرف یورپ کا سابق نگران، دوسری طرف ڈیجیٹل دنیا کا اوتار اور درمیان میں سوال پوچھنے والا فدوی بقلم خود!

پہلے اس ہال کے بارے میں بتا دوں، کیونکہ عمارتیں بھی گواہ ہوتی ہیں۔ ریپبلک پیلس انیس سو ستر میں بنا، جب الماتی سوویت قازقستان کا دارالحکومت تھا اور یہ ہال لینن پیلس کہلاتا تھا۔ یہاں کبھی صرف کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس ہوتے تھے، سرخ جھنڈے لہراتے تھے اور سوویت افسر بیٹھ کر پانچ سالہ منصوبے منظور کرتے تھے۔ جس چھت کے نیچے کبھی اشتراکیت کے گیت گائے جاتے تھے، اسی کے نیچے آج مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور آزاد منڈی کی بات ہو رہی ہے۔ تاریخ کا اپنا مذاق ہے اور یہ ہال اس مذاق کی سب سے خوبصورت مثال ہے۔

نیو ویژن فورم وسطی ایشیا کی سب سے بڑی بزنس کانفرنس، جسے نوبل فیسٹ بھی کہتے ہیں، تین روز جاری رہنے والی تقریبات میں دس ہزار سے زائد شرکاء موجود ہوتے ہیں۔ جہاں سابق وزرائے اعظم، نوبل انعام یافتہ، سائنسدان اور دنیا بھر کے کاروباری ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں۔ قازقستان نے دو ہزار چھبیس کو ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کا سال قرار دیا ہے اور یہ فورم اسی اعلان کا دل ہے۔

میں گزشتہ پانچ سال سے فورم پر کی نوٹ ڈلیور کر رہا ہوں۔ اس دفعہ مجھے مرکزی پروگرام اوپن کرنا تھا۔ موضوع کیا تھا؟ دو ہزار چھبیس، ایک ایسی دنیا جو اب ہمارے قابو میں نہیں رہی۔ نیا عالمی نظام ایک ہاتھ میں، نیا ٹیکنالوجی نظام دوسرے ہاتھ میں اور سوال یہ کہ جب دونوں ایک ساتھ بدل رہے ہوں، تو انسان کہاں کھڑا ہو۔

میرے دائیں ہوزے مانوئل باروسو بیٹھے تھے اور دوستو، اس آدمی کی زندگی خود ایک ناول........

© Daily Urdu