Aath Khatre Jo Agle 100 Saal Tai Karenge
آٹھ خطرے جو اگلے سو سال طے کریں گے
کچھ باتیں اسٹیج پر نہیں ہوتیں۔ وہ اُس وقت ہوتی ہیں جب کیمرے بند ہوں، روشنیاں مدھم ہوں اور کمرے میں صرف وہ لوگ بچیں جنہیں اندازہ ہو کہ داؤ پر کیا لگا ہے۔ یہ ویسی ہی نشست تھی۔ پرتگال کے سابق وزیراعظم اور یورپین یونین کمیشن کے دو بار صدر ہوزے مانوئل باروسو کے ساتھ نوے منٹ، جس میں میری اور ان کی گفتگو ہوتی رہی۔ وسطی ایشیا کے سینیئر رہنماؤں اور بڑے کاروباری ناموں نے شرکت کی۔ میں نے بات الماتی شہر سے شروع کی۔ 35 سال پہلے، اِسی الماتی میں، گیارہ جمہوریتوں نے دستخط کیے اور سوویت یونین ختم ہوگیا۔ پچھلا عالمی نظام یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دفن ہوا۔ یعنی جس کمرے میں ہم اگلے نظام پر بات کر رہے تھے، وہ وہی شہر تھا جہاں پچھلا نظام مرا تھا۔
پھر میں نے باروسو کے سامنے ایک آئینہ رکھا۔ سن 1926 کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ ایک عالمی جنگ کے بعد جی رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ ایک اور جنگ سے پہلے جی رہے ہیں۔ معاہدے ہو چکے تھے، جرمنی واپس کمرے میں بیٹھ چکا تھا، نوبل امن انعام بٹ رہے تھے اور نظام چلانے والوں کے نزدیک بحران پیچھے رہ گیا تھا۔ مگر اُسی برس، خاموشی سے، وہ چیزیں جنم لے رہی تھیں جنہوں نے آنے والی صدی کو خون میں نہلا دیا۔ مہنگائی، بے روزگاری اور طاقتور حکمرانوں کی آمد۔ کسی کو دکھائی نہ دیا، کیونکہ سب ماضی کو دیکھ رہے تھے، مستقبل کو نہیں۔
میں نے باروسو سے کہا، آئیے 1926 والوں کی غلطی نہ دہرائیں۔ آئیے سیدھا پوچھیں، آج دنیا کے بڑے تھنک ٹینک اور سائنسدان جن خطروں کی نشاندہی کر رہے ہیں، وہ کون سے ہیں جو اگلے سو سال کی انسانی زندگی کا فیصلہ کریں گے۔ میں نے اُن کے سامنے آٹھ رکھے۔ یہ میری رائے نہیں۔ یہ اقوامِ متحدہ، عالمی اقتصادی فورم، گلوبل چیلنجز فاؤنڈیشن، رینڈ کارپوریشن اور آکسفرڈ کے محققین کا نچوڑ ہے۔
اور میں نے بات ایک گھڑی سے شروع کی۔ ستائیس جنوری 2026 کو، بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس نے اپنی مشہور "ڈومز ڈے کلاک" پچاسی سیکنڈ ٹو مڈ نائٹ پر لگا دی۔ یہ گھڑی 1947 سے بتاتی ہے کہ انسانیت اپنی تباہی سے کتنی دور ہے اور آدھی رات اُس کے خاتمے کی علامت ہے۔ پچاسی سیکنڈ، یعنی پوری تاریخ میں آج تک کی قریب ترین۔ یہی اِس پوری گفتگو کا پس منظر ہے۔
پہلا خطرہ، مصنوعی ذہانت۔ آکسفرڈ کے فلسفی ٹوبی آرڈ نے، جس کی کتاب The Precipice دنیا بھر کے تھنک ٹینکوں کا حوالہ ہے، حساب لگایا ہے کہ اگلے سو سال میں انسانیت کے کسی بڑے تباہ کن حادثے کا مجموعی امکان چھ میں سے ایک ہے، یعنی روسی رولیٹ کے ایک گھماؤ جتنا اور اِس پورے خطرے میں سب سے بڑا اکیلا حصہ، دس میں سے ایک، اُسی غیر کنٹرول شدہ مصنوعی ذہانت کا ہے۔ یہ ٹھیک 1926 کے ریڈیو جیسا لمحہ ہے۔ ریڈیو بھی بغیر کسی قانون کے آیا اور ایک دہائی میں فسطائیت کو........
