Namoos e Risalat Aur Khatam e Nabuwat |
ناموسِ رسالت ﷺ اور ختمِ نبوت
میں اپنے کالم کا آغاز ایک تاریخی اور معروف قول سے کرنا چاہوں گا جو ممتاز عالمِ دین مولانا مفتی محمود سے منسوب ہے۔ آپ کا تعلق صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا اور وہ اپنے دور کے قادرالکلام رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ایک موقع پر کہا تھا: "اگر خدا نے بھٹو کو معاف کیا تو دو باتوں پر کرے گا: ایک یہ کہ اس نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا اور دوسرا یہ کہ اس نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا"۔
یہ قول آج بھی سیاسی و مذہبی حلقوں میں بطور حوالہ دہرایا جاتا ہے۔ تاریخ نویس کے لیے یہ ایک ناگزیر حقیقت ہے کہ جب بھی پاکستان میں ختمِ نبوت کے آئینی اور سیاسی پہلوؤں کا ذکر ہوگا تو بھٹو صاحب کا نام ضرور سامنے آئے گا، چاہے نظریاتی اختلافات اپنی جگہ موجود ہوں۔ آج اسی تسلسل میں ان کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمٰن بھی مذہبی سیاست کے اہم کردار کے طور پر متحرک دکھائی........