Kashti e Nooh, Gerald Ford Aur Call Of Nature

کشتیِ نوح، جیرالڈ فورڈ اور کال آف نیچر

حضرت نوحؑ اللہ کے ان عظیم پیغمبروں میں سے ہیں جنہیں اولو العزم (صاحبِ عزم) کہا جاتا ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت آدمؑ کے بیٹے شیث سے جا ملتا ہے۔ قرآن مجید میں آپ کا ذکر 43 مقامات پر آیا ہے اور آپ کی دعوت، صبر، کشتی اور طوفان کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

حضرت نوحؑ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی طرف بھیجا۔ وہ لوگ بت پرست تھے اور پانچ بڑے بتوں وَدّ، سُواع، یَغوث، یَعوق، نَسر، کی پوجا کرتے تھے۔ آپ نے 950 سال انہیں دعوت دی۔ رات دن، چھپ کر اور کھل کر، وعظ و نصیحت اور ترغیب سے کام لیا۔ لیکن قوم کے سرداروں اور مالداروں نے آپ کا مذاق اُڑایا، آپ کو جھٹلایا اور کہا: "تم بھی ہماری طرح کے انسان ہو، تمہارے پیروکار بھی کمزور اور رذیل لوگ ہیں"۔

جب قوم نے ایمان لانے سے انکار کر دیا تو اللہ نے حکم دیا کہ ایک کشتی بنائی جائے۔ آپ جنگل میں جا کر لکڑی چننے لگے۔ لوگ آپ کا مذاق اڑاتے تھے کہ تم کشتی بنا رہے ہو جبکہ زمین پر پانی کا نام و نشان نہیں۔ آپ فرماتے تھے: "عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے"۔

کشتی ساج کی لکڑی سے بنائی گئی، اندر اور باہر سے تارکول (کول) لگایا گیا تھا۔ یہ تین منزلہ تھی:

نیچے کی منزل: جانوروں کے لیے

درمیانی منزل: انسانوں کے لیے

اوپری منزل: پرندوں کے لیے

اس میں ہر قسم کے جانوروں اور پرندوں کا ایک جوڑا اور آپ کے گھرانے اور دوستوں میں سے صرف 80 لوگ (مومنین) سوار ہوئے۔ آپ کا ایک بیٹا (کنعان یا یام) کافر تھا جو پانی میں ڈوب گیا۔

کشتی کی لمبائی: 300 × 0.5 میٹر ≈ 150 میٹر (بعض روایات میں 157 میٹر تک)

طوفان عام خیال کے مطابق حضرت آدم کے بعد دسویں صدی میں آیا۔ کشتی........

© Daily Urdu