Epstein Files Ke Aftershocks Aur Islam Ka Tasawar e Takmeel

ایپسٹین فائلز کے آفٹر شاکس اور اسلام کا تصورِ تکمیل

دنیا میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے اثرات صرف سیاسی یا سماجی نہیں ہوتے بلکہ فکری اور نظریاتی سطح پر بھی جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ حالیہ عالمی انکشافات اور اخلاقی بحرانوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ انسانیت کی رہنمائی کا اصل اور محفوظ ذریعہ کیا ہے؟

اسی تناظر میں اسلام کے تصورِ تکمیل کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام کو دنیا کا سب سے جدید مذہب کہنا بظاہر حیران کن لگ سکتا ہے، لیکن اگر ہم تاریخی اور فکری ارتقاء کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ "جدید" سے مراد وقت کے لحاظ سے نیا ہونا نہیں، بلکہ مکمل، محفوظ اور حتمی ہونا ہے۔

اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، جب 1876 میں Alexander Graham Bell نے ٹیلیفون ایجاد کیا تو وہ انسانی رابطے کا ابتدائی ذریعہ تھا۔ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی اور آج وہی تصور جدید ترین شکل میں iPhone کی صورت ہمارے ہاتھ میں موجود ہے۔ بنیادی مقصد وہی ہے رابطہ لیکن شکل اور تکمیل میں ارتقاء آ چکا ہے۔

اسی طرح ہدایتِ الٰہی کا سلسلہ بھی تدریجی رہا۔ حضرت داؤد پر زبور نازل ہوئی۔ تورات، حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی اور حضرت عیسیٰ پر انجیل نازل ہوئی۔ یہ سب اپنی اپنی قوموں اور ادوار کے لیے رہنمائی تھیں۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری اور مکمل کتاب قرآن پاک کو اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا۔

قرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے قیامت تک کے لیے ہدایت قرار دیا گیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی۔ اسی لئے نہ اس میں تحریف ہو سکتی ہے اور نہ اس کے بعد کوئی نئی وحی یا نیا نبی آئے گا۔

یہی "حتمیت" اور "تحفظ" اسے مکمل اور جدید بناتی ہے یعنی ایسا نظامِ حیات جو انسانی ارتقاء کے تمام مراحل کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے اور جہاں........

© Daily Urdu