Bakriyan Charane Ki Hikmat Aur Ambiya Ki Sunnat
بکریاں چرانے کی حکمت اور انبیاء کی سنت
بےشک اللہ کے ہر کام میں حکمت پوشیدہ ہے اور وہ سب سے بڑا حکیم ہے۔ جدید دنیا آج "لیڈرشپ" پر ہزاروں کتابیں لکھ رہی ہے۔ ہارورڈ اور آکسفورڈ سے لے کر جدید نفسیات اور کارپوریٹ ٹریننگ تک ہر جگہ یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ ایک اچھا رہنما کیسے بنتا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید leadership psychology آج جن صفات کو عظیم قیادت کی بنیاد قرار دے رہی ہے، وہی صفات صدیوں پہلے انبیاء کرامؑ کی زندگیوں میں موجود تھیں اور ان صفات کی ابتدائی تربیت کا ایک عجیب مگر گہرا ذریعہ "بکریاں چرانا" تھا۔
جدید نفسیات کہتی ہے کہ فطرت کے قریب رہنا، خاموشی میں وقت گزارنا، کمزور مخلوق کی نگرانی کرنا اور مسلسل مشاہدہ انسان کے اندر صبر، برداشت، empathy اور emotional balance پیدا کرتا ہے۔ آج "Animal Assisted Therapy"، "Mindfulness" اور "Servant Leadership" جیسے تصورات دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جا رہے ہیں۔ مغربی مصنفین اب یہ لکھ رہے ہیں کہ دنیا کو صرف حکم چلانے والے rulers نہیں بلکہ نگہبانی کرنے والے shepherds یعنی چرواہے درکار ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو........
