Azad Americi Adliya Aur Tareekhi Sabaq
آزاد امریکی عدلیہ اور تاریخی سبق
امریکہ کی عالمی سطح پر جارحانہ پالیسیوں اور بدمعاشیوں کی مثالیں روز روشن کی طرح سامنے ہیں۔ کئی ممالک چاہے وہ اقتصادی یا فوجی طور پر مضبوط ہوں، امریکہ کے اقدامات پر کھل کر بات کرنے سے گھبراتے ہیں یا ڈرتے ہیں۔ لیکن امریکہ کے اندر، جو نظام سب سے زیادہ تعریف کے قابل ہے، وہ ہے آزاد عدلیہ کا نظام۔ یہاں جج اور عدالتیں کسی دباؤ، طاقت یا سیاسی اثر سے آزاد ہیں اور فیصلے قانون اور آئین کے مطابق دیتی ہیں۔
حال ہی میں دو مشہور امریکی کیسز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔
Birthright Citizenship Case
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس میں وہ چاہتے تھے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے خودکار شہری نہ بنیں۔ یہ معاملہ براہِ راست امریکی آئین کی 14th Amendment (Citizenship Clause) سے ٹکرا رہا ہے، جو یہ کہتا ہے کہ جو بھی امریکہ میں پیدا ہو، وہ شہری ہے۔ والدین غیر قانونی ہوں تب بھی بچہ شہری، والدین طالب علم یا وزیٹر ہوں تب بھی شہری۔
امریکی صدر ٹرمپ خود وائٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ گئے اور عدالت میں بیٹھ کر سماعت سنی۔ یہ امریکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی موجودہ صدر خود اپنی پالیسی کے کیس کی سماعت میں بطور مبصر شریک ہوا ہو۔ یہ منظر عدالتی بالادستی اور قانون کی برابری کا عملی مظاہرہ ہے۔ صدر ہونے کے باوجود ٹرمپ کو عدالت میں صرف مبصر کی حیثیت دی گئی، ججز کے ساتھ بینچ یا خصوصی کرسی نہیں دی گئی۔
ایسے کتنے ہی واقعات ھمارے دین اسلام میں موجود ہیں جوکہ دین فطرت ہے کہ ایک عدالت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف ایک یہودی نے دعویٰ کیا۔ قاضی نے آپ کو "امیر المومنین" کہہ کر پکارا تو آپ نے فوراً فرمایا:........
