menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

America, Balochistan Aur Karachi

13 1
03.02.2026

دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ میں، جہاں اسکول بچوں کے لیے محفوظ ترین جگہ سمجھے جاتے ہیں، وہاں بھی تشدد کی ایک گہری بیماری پھوٹ پڑتی ہے۔ 14 دسمبر 2012 کو Sandy Hook Elementary School، نیو ٹاؤن، کنیکٹیکٹ میں ایک 20 سالہ حملہ آور نے اپنی والدہ کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں داخل ہو کر 20 بچوں اور 6 بالغ اساتذہ کو قتل کر دیا۔ چند منٹوں میں 154 گولیاں چلیں اور یہ واقعہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے بھیانک اسکول گن شوٹنگز میں شامل ہوگیا۔

پچھلے دس سالوں میں امریکہ کے اسکولوں میں تقریباً 560 سے زائد گن شوٹنگ واقعات ہو چکے ہیں، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ پھر یہ سلسلہ 2021 سے 2024 تک بڑھ جاتا ہے اور 2025 میں اگرچہ تعداد کم ہوئی، لیکن خوف اور انسانی صدمے کا اثر اتنا شدید رہا کہ ہر واقعہ دلوں میں ایک مستقل زخم چھوڑ گیا۔

یہ تشدد اکثر فرد کے ذہنی بحران، تنہائی، گن کلچر اور سیکیورٹی کی ناکامی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد میڈیا شور مچاتا، عدالتیں کارروائی کرتی ہیں اور سیاستدان بحث کرتے ہیں، مگر اسکولوں کو مکمل محفوظ بنانے میں ہمیشہ ناکامی رہتی ہے۔ قتل عام کی رپورٹیں انسانی جذبات کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، لیکن اصل مسئلہ اکثر نظامی اور معاشرتی محرومی میں چھپا ہوتا ہے۔

امریکہ کے کسی اسکول میں ایک فائرنگ ہو جائے تو ٹی وی اسکرینیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ اینکر کی آواز لرزنے لگتی ہے۔ "انسانیت خطرے میں ہے" کے بینر چلنے لگتے ہیں۔ لیکن جب مستونگ میں جنازے اٹھتے ہیں۔ جب عبادت گاہوں میں........

© Daily Urdu