Bharat Europen Union Deal Pakistan Par Kya Asar Daale Gi? |
بھارت یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ جسے مدر آف آل ڈیلز کا نام دیا گیا ہے، اس نے پورے ریجن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس پر سوچا اور غوروفکر کیا جا رہا ہے۔ کاروباری حلقے پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جیسے اپٹما کے سابق سربراہ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان کی یورپی یونین کو ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں، اس لئے حکومت اس حوالے سے کچھ کرے۔
البتہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فیصلہ ساز اس پر پریشان نہیں۔ پاکستان اب امریکہ کے ساتھ چلنے اور کئی حوالوں سے مل کر آگے بڑھنے کا طے کر چکا ہے۔ پاکستان کے نزدیک یورپ کی نسبت امریکہ زیادہ اہم ہے اور اسلام آباد میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اس نئے منظرنامے سے کس طرح اپنے لئے مواقع نکالے جا سکتے ہیں؟
بعض حقیقت پسند پاکستانی کاروباری حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اتنی بڑی ڈیل کی کیپسیٹی ہی نہیں۔ انڈیا کی ایسی کیپیسٹی ہے، وہ ڈیل کر سکتا ہے، کر لے۔ ہمیں تو اپنے حساب سے، اپنے سائز، اپنے لئے مواقع کے اعتبار سے دیکھنا اور پلان بنانا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت پاکستانی اس پر خوش ہیں کہ امریکہ اس بار پاک چین تعلقات یا سی پیک ٹو کو روکنے کی بات نہیں کر رہا۔ امریکہ اور پاکستان دونوں تعلقات کے اس نئے فیز میں بہت پریکٹیکل اور پریگمیٹک اپروچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کو چین کی گود میں نہ بٹھا دے اور اس کے لئے چین کے علاوہ دیگر آپشنز بھی پیدا کرے۔ ریکوڈیک کی فنانسنگ میں بھی امریکیوں نے مدد کی ہے۔
دوسری طرف پاکستان چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کے باوجود امریکہ کو انوالو رکھنا چاہتا........