Balochistan: Dehshat Gardon Ke Khilaf Har Aik Ko Yaksu Hona Parega

بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں نے کچھ دیر کے لئے تو سرپرائز کا عنصر پیدا کیا، جس پر ان کے حامی اور سہولت کار خوش ہیں، مگر آخری تجزیے میں بی ایل اے نے بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ ہفتہ کے روز ہونے والے ان حملوں کو آپریشن ہیروف ٹو کا نام دیا گیا۔ دو ہزار چوبیس میں بھی کئی جگہوں پر بیک وقت حملے ہوئے تھے، اسے ہیروف ون کہا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بی ایل اے کے لوگ طویل عرصہ سے اس آپریشن کی تیاری کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے لوگ بھی اس میں شامل ہونا تھے۔ تاہم دسمبر میں پاکستانی فورسز کو دو اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ہرنائی اور پنجگور میں انٹیلی جنس بیسڈآپریشن کے دوران بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درجنوں فائٹر مارے گئے۔ پنجگور میں تو ایک ہائی پروفائل ٹارگٹ بھی ہٹ ہوگیا۔ ٹی ٹی پی کو بھی خاصا نقصان ہوا۔ اس کے بعد سے یہ دہشت گرد گروہ دبائو میں تھے اور اب انہوں نے اپنی پوری قوت مجتمع کرکے اپنی تمام افرادی قوت، خاص کر گن فائٹ والے سب لڑکے ان حملوں میں جھونک دئیے۔

اکتیس جنوری کو حملے کرنے کی بھی ایک دلچسپ تاریخی مناسبت ہے۔ اکتیس جنوری 1968 کو شمالی ویت نامی گوریلوں نے بیک وقت پورے ملک میں متعدد شدید حملے کرکے امریکی حمایت یافتہ ویت نامی حکومت اور ویت نام میں موجود امریکی فوج کو مفلوج کر دیا تھا۔ اسے آپریشن ٹیٹ یا ٹیٹ افینسو کہا گیا۔ "ٹیٹ" دراصل ویت نامی نئے سال کی ابتدا میں فیسٹول بھی ہے، جسے ویت نامی کلچر میں خاص انداز سے سیلی بریٹ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر چھٹیاں ہوتی ہیں، اسی وجہ سے حکومتی فوجی دستوں میں بہت سے فوجی چھٹی........

© Daily Urdu