Wo Aah, Jo Na Suni Gayi |
رات کے پچھلے پہر جب شہر کی شاہراہوں پر ہو کا عالم ہوتا ہے تو کچھ گھروں کے اندر ایسے جوار بھاٹے جنم لیتے ہیں جن کا شور باہر نہیں آتا مگر ان کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔ ایک تھکی ہاری عورت آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے جس کے ایک ہاتھ میں اپنی نئی زندگی کی دہلیز جبکہ دوسرے ہاتھ میں اپنے بچوں کے ہاتھ ہوتے ہیں۔ اس کے چہرے پر خوشی کم جبکہ سوال زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ سوچتی ہے "کیا میں صرف ایک عورت ہوں جسے دوبارہ جینے کا حق ہے یا ایک ماں بھی ہوں جسے اپنی اولاد کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہے"؟ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں طلاق صرف کاغذ پر لکھی ہوئی جدائی نہیں رہتی بلکہ ایک ماں کے دل میں عمر بھر کے لیے پیوست ہو جانے والا کانٹا بن جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کی دوسری شادی کو اکثر ایک "نئی شروعات" کہا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شروعات اکثر پھولوں کی سیج کے بجائے کانٹوں کا بستر ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر اُس عورت کے لیے جو اپنے سابق شوہر سے ہونے والی اولاد کو ساتھ لے کر دوسری دہلیز پر قدم رکھتی ہے۔ یہ صرف........