Mashriq e Wusta Dorahe Par |
مشرقِ وسطیٰ دوراہے پر
سنہ 1973 کی ایک شام عرب دنیا کے سیاسی افق پر ایک ایسا منظر ابھرا جس نے عالمی سیاست کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ عربوں کے ایک باوقار اور خاموش مزاج حکمران شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے مغربی طاقتوں کے سامنے ایک ایسا فیصلہ رکھ دیا جسے تاریخ "تیل کے ہتھیار" کے نام سے یاد کرتی ہے۔ عرب تیل کی فراہمی محدود کر دی گئی اور دنیا کو پہلی بار اندازہ ہوا کہ طاقت صرف اسلحے سے نہیں بلکہ سیاسی ارادے اور اقتصادی وسائل سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس فیصلے نے مغرب کو چونکا دیا اور عرب دنیا کو یہ احساس دلایا کہ اگر قیادت میں جرات اور حکمت ہو تو عالمی سیاست کے توازن کو بدلا جا سکتا ہے۔ مگر پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اپنے وقت کا یہ دلیر حکمران عالمی استعمار کے ہاتھوں محلاتی سازشوں کے ہتھیار کی نذر ہوگیا۔
آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی ہی ایک نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو ایک خطرناک عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔........