Biryani Commander

پاکستانی شادیوں میں نکاح کے وقت "قبول ہے"، "قبول ہے"، "قبول ہے" کے بعد اصل امتحان روٹی کھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پاکستانی شادی میں عام طور پر روبرو گواہان مولوی صاحب جو نکاح پڑھواتے ہیں وہ دراصل اس وقت تک نامکمل سمجھا جاتا ہے جب تک چکن و مٹن قورمے، بریانی، رشین سیلڈ اور مہمانوں کی پلیٹوں کے درمیان ایک مقدس، پائیدار اور خالص دنیاوی تعلق قائم نہیں ہو جاتا۔ دلہا دلہن تو بیچارے اس کھانے کے سارے ہنگامے کے دوران صرف واجبی سے کردار بن جاتے ہیں۔ ہر شادی میں اصل خودساختہ ہیرو وہ چچا ہوتے ہیں جو کھانے کے وقت ایسے متحرک ہوتے ہیں جیسے اقوامِ متحدہ نے انہیں کھانے کے عالمی تحفظ کا سفیر مقرر کر دیا ہو۔

ہمارے ایک دوست کے عزیز ہیں۔ نام تو ان کا بشیر صاحب ہے مگر خاندان میں وہ "بریانی کمانڈر" کے نام سے مشہور ہیں۔ شادی میں ان کی آمد بارات سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ وہ وقت سے پہلے تمام دیگوں کا معائنہ کرنے اور نائی کو طعن لعن کرنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ سالن کی مقدار، رائتے کی روانی، سلاد کی تازگی اور بریانی میں گوشت کی مقدار۔۔ ہر چیز پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ جب ویٹر ہال میں کھانا لگا رہے ہوتے ہیں تو بشیر صاحب کی عقابی نگاہوں میں وہی چمک ہوتی جو کسی ماہر شکاری کی آنکھ میں اپنے شکار پر نشانہ باندھنے سے چند لمحے پہلے آتی ہے۔

وہ پلیٹ ہاتھ میں لے کر........

© Daily Urdu