Aik Aham Sawal |
ایران کی جانب سے شدید مزاحمت کے پیش نظر کچھ سنجیدہ یار دوست یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک سٹیج پر جا کر امریکہ ایران پر محدود نوعیت کا نیوکلیئر اٹیک کر دے جیسا کہ انھوں نے ہیروشیما پر کیا تھا جب جاپان نے سرنڈر کرنے سے انکار کیا تھا آج ایران بھی ویسا ہی کر رہا ہے۔ یہ سوال بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس کا جواب جذبات یا قیاس آرائی کے بجائے بین الاقوامی سیاست اور عسکری حکمتِ عملی کی حقیقتوں کو سامنے رکھ کر دینا چاہیے۔ اگر اس سوال کو دیکھا جائے تو چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی نیوکلیئر پالیسی دہائیوں سے ایک خاص اصول کے گرد گھومتی ہے جسے Nuclear Deterrence کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کا بنیادی مقصد ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا نہیں بلکہ دشمن کو اس کے استعمال کے خوف سے روکنا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایٹمی ہتھیار زیادہ تر "استعمال کے لیے نہیں بلکہ روکنے کے لیے" رکھے جاتے ہیں۔ جہاں تک جاپان پر ایٹم بم گرانے کا تعلق ہے تو اس وقت کے معروضی حالات کچھ........