Pesha Warana Raqabatein (2) |
پیشہ ورانہ رقابتیں (2)
ایک دن یہ دلاور دوبارہ آ کر کہنے لگا بھائی تھوڑا بہت تو میرے کانوں کو دیکھو اور ان کی جنرل سروس کرو۔ میں نے اس کے کانوں کو خوب صاف کرکے بالکل اس کے سر کے ساتھ میچ کرکے چمکا دیا اور کہا لو مبارک ہو تمہارا کام ہوگیا ہے اتنے میں یہ کان دباکر یہاں سے بھاگنے والا ہی تھا کہ اسے یک دم چھینک آ گئی اور میری سلائی اس کے کان میں آگے پیچھے ہوگئی اور اس کا "کام" تقریباََ ہوگیا۔
آپ ہی بتائیں اس میں میرا کیا قصور ہے حالانکہ یہ ایک لمحہ کیلئے اپنی چھینک کو دانتوں تلے دباسکتا تھا لیکن کیا کیا جائے اس کے کانوں میں میرے بارے میں ویسے ہی کوئی زہر گھول گیا ہے شاید اسے نہیں معلوم "جو کان سے سنے وہ غیبت جو آنکھ سے دیکھے وہ گناہ" یہ تو کچھ بھی نہیں میں نے (تاجے راجے کی طرف دیکھتے ہوئے) بڑی بڑی مونچھوں والوں کے کان سیدھے کر دیے ہیں۔ یہ دلاور تو ویسے ہی ادھر ادھر کی ہانک کر اگلے پر الزام لگانے میں ماہرہے اسے کیا پتہ تحقیق کیا ہوتی ہے میرے والد صاحب کانوں میں ڈالنے کیلئے ایک دوائی تیار کرتے تھے جس کا ذائقہ ذرا ترش تھا۔
میں نے اس کے نسخے میں تبدیلی کرکے اب اسے مکمل میٹھا کر دیا ہے۔ اب میرے پرانے گاہک آ کر کہتے ہیں بھائی میرے کانوں میں وہ والے قطرے ڈال دو ہم نے کھانا کھانے کے بعد وجود ذرا میٹھا کرنا ہے۔ کوئی بھی مریض ENT........