Kano Kan
بھلے آپ کسی محفل مزاح میں بیٹھے ہوں یا مشاعرے میں اگر کان بند ہوں تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی جب تک وہ بذات خود کسی کے کان میں نہ پھونکے۔ کسی وجہ سے ناک بند ہو تووہ اردگرد کے ماحول کو بھی ناک آؤٹ کر سکتا ہے۔ ناک کان اور آنکھ کا آپس میں گہرا تعلق بلکہ قدریں بھی مشترک ہیں مگر یہ مریضوں سے پوشیدہ اور ڈاکٹروں کی پسندیدہ ہیں۔ اسی وجہ سے ان تینوں کا اسپیشلسٹ اپنے مریضوں سے دو دو ہاتھ کرلیتا ہے مگر گلے سے آنکھ چراتا ہے بلکہ وہ اس کی بات کی طرح دھیان نہ دینے والے بہرے کے گلے بھی پڑ سکتا ہے۔
ناک کو الٹا لکھیں تو کان پڑھا جاتا ہے اور انہی حروف کو آگے پیچھے کر لیں تو آنکھ لکھا جاتا ہے۔ کان ناک اور آنکھ خود ہی واحد جمع ہیں لیکن ان تینوں کا علاج بہرحال مختلف ہوتا ہے۔ کبھی ناک بند ہو توساتھ کان بند ہو کر "ناک کارا" ہو جاتے ہیں جبکہ بھانپ دینے سے کھل بھی جاتے ہیں بعض اوقات کان بھانپ والا خطرہ بھانپ کر خود ہی کھل جاتے ہیں ہیں اور مزید"ہلکان" ہونے سے بچ جاتے ہیں بلکہ ان کو بھانپ دینے سے بعض اوقات آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں۔
سردیوں میں جب ناک بند ہو تو ساتھ کان بند ہونے کی شکایت بھی ملتی ہے اور آنکھیں بھی ہو جاتی ہیں سرخ۔ اگر کان بند ہو جائیں تو پورا جسم ناک بھوں چڑھانا شروع کر دیتا ہے بلکہ انسان کوناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ویسے آنکھ سے کان کا لفظی تعلق بھی نہیں ہے لیکن........
