Desi Sakhta Chanay
مزاح نگاری ایک مشکل سخن وری ہے اور نثر لکھتے ہوئے بھی کافی worry ہونا پڑتا ہے پھر کہیں جا کے نام "وری" ہوتی ہے۔ کسی کو گدھا کہے بغیر دیگر"ہن ہنائے" الفاظ سے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ تو کیا جانے زعفران کی کیا قدر؟ جبکہ ویرانی کے بغیر ہی بس سطریں گوندھ کر الو بنانا پڑتا ہے اگر یہ بھی نہ بن سکے تو کم از کم "بھاالو" تو بن پائے گا۔ سیدھے الفاظ بلکہ براہ راست لفظی حملے سے مزاح کے مداح بھی ناراض ہو سکتے ہیں اور ان کی آنکھ میں اپنا ہی بال آسکتا ہے۔ بہرحال مزاح نگار کی بات کا برا منانے کی بجائے خود کو راضی رکھنا چاہئے اسی کو"رضا قاریاں" کہتے ہیں۔ مزاح نگار تو یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ جو خبریں نہیں پڑھتایہ اس کی کج فہمی ہے اور جو پڑھتاہے یہ ہے اس کی خوش فہمی۔۔
ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب شناخت پریڈ 2 چھپ چکی ہے۔ دھائیاں قبل شناخت پریڈ اول شائع ہوئی تھی تو اس وقت سے ہم سب اس امید سے تھے کہ اب کس کس کی قسمت میں اس کی شناخت پریڈ کا ہونا لکھا ہے چنانچہ شناخت پریڈ 3 آنے تک یہ انتظار ختم ہوا۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ "بٹوں کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا سمجھانا" اپنی شناخت پریڈ کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ "شاعر ادیب مجھے ڈاکٹر محمد یونس بٹ کا بیٹا سمجھ کر شفقت سے پیش آتے ہیں"۔
ایک اور مضمون میں معروف مصنف کے بارے کہتے ہیں "وہ انتظار نہیں کر سکتا اور انتظار کرتے ہوئے اسے........
