Sachai Ka Safar |
تاریخ کے اوراق میں بے شمار جنگیں، سلطنتیں، فتوحات اور شکستیں دفن ہیں۔ وقت کی گرد نے بہت سے واقعات کو اپنی تہوں میں چھپا دیا، بہت سے نام محض کتابوں کے حاشیوں تک محدود ہو گئے، مگر ایک واقعہ ایسا ہے جو چودہ صدیوں بعد بھی تازہ ہے، زندہ ہے اور انسانی ضمیر کے دروازے پر مسلسل دستک دے رہا ہے۔ یہ واقعہ کربلا ہے۔ ایک ایسی سرزمین جہاں طاقت کی للکار سے زیادہ حق کی پکار سنائی دی، جہاں تعداد کی کثرت نہیں بلکہ کردار کی عظمت جیتی اور جہاں ظاہری شکست نے تاریخ کی سب سے بڑی اخلاقی فتح کو جنم دیا۔ کربلا کی داستان دراصل دو نظریات کی کشمکش ہے۔ ایک طرف اقتدار کا غرور تھا، طاقت کا نشہ تھا، جبر کی تلوار تھی اور حکومت کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کی خواہش تھی۔ دوسری طرف اصول تھے، کردار تھا، صداقت تھی اور وہ ضمیر تھا جو باطل کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں تھا۔ یہ معرکہ کربلا کےمقام پر برپا ہوا، مگر اس کی بازگشت تاریخ کے ہر دور میں سنائی دی۔
حضرت امام حسینؑ نے اپنی جدوجہد کے ذریعے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ زندگی کا اصل مقصد صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ حق کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ اگر زندگی اصولوں کے بغیر ہو تو وہ محض سانسوں کا تسلسل ہے، مگر اگر انسان حق کے لیے کھڑا ہو جائے تو اس کی شہادت بھی حیاتِ جاوداں بن جاتی ہے۔ کربلا کا سب سے بڑا فلسفہ یہی ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے بہتر ہے کہ انسان قربانی دے دے، مگر سچائی کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دے۔ کربلا کو اگر محض ایک تاریخی سانحہ سمجھ لیا جائے تو اس کی اصل معنویت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ کربلا دراصل ایک مسلسل تحریک ہے۔ یہ ہر دور میں نئے روپ کے ساتھ سامنے آنے والے یزیدی نظاموں کے خلاف ایک اعلانِ بغاوت........