Yahya Khan: Mujrim, Nakam Hukumran Ya Tareekh Ka Yak Tarfa Faisla?
یحییٰ خان: مجرم، ناکام حکمران یا تاریخ کا یک طرفہ فیصلہ؟
ہم نے یحییٰ خان کو مجرم تو بنا دیا، مگر کبھی ان پر مقدمہ نہیں چلایا کہ وہ اپنی صفائی بھی پیش کرسکتے۔ پچپن برس سے پاکستانیوں کو ایک ایسی کہانی سنائی جاتی رہی ہے جس پر سوال اٹھانا بھی گویا تاریخ سے غداری سمجھا جاتا ہے: جنرل یحییٰ خان نے پاکستان توڑا۔ وہ شرابی تھا، عیاش تھا، عورتوں کا رسیا تھا، نااہل تھا اور اس کی حماقت نے ملک کا آدھا حصہ ہم سے چھین لیا۔
کہانی بہت آسان ہے، شاید ضرورت سے زیادہ آسان اور عجیب بات یہ ہے کہ اس کہانی کا سب سے اہم کردار اب ہمارے درمیان موجود بھی نہیں کہ اپنا مقدمہ لڑ سکتا۔
نہ یحییٰ خان کا کوئی آزادانہ اور کھلا عوامی ٹرائل ہوا، نہ انہیں اپنے سیاسی فیصلوں کا دفاع کرنے کا موقع ملا، نہ 1970ء کے انتخابات کے بعد کے ان ہنگامہ خیز مہینوں میں ان کے اردگرد موجود بڑے سیاسی اور فوجی کرداروں کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کرکے ان سے سوال کیے گئے۔
اس کے بعد کیا ہوا؟ یحییٰ خاموش ہوگیا، اقتدار ختم ہوگیا اور اس کے بارے میں کہانیاں چلتی رہیں۔ آہستہ آہستہ کہانیاں تاریخ بن گئیں اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر ایک سوال پوچھنا چاہیے: کیا یحییٰ خان واقعی وہی شخص تھا جو ہمیں بتایا گیا ہے؟
یہ سوال کسی یحییٰ خان کے پرستار نے نہیں اٹھایا تھا۔ یہ سوال اردشیر کاؤسجی نے اٹھایا تھا۔
اردشیر کاؤسجی یحییٰ خان کے وکیل نہیں تھے۔ وہ طاقتور لوگوں کے کبھی مداح بھی نہیں رہے۔ ان کی تحریروں میں جنرل، سیاست دان، جج اور بیوروکریٹ سب برابر تنقید کا نشانہ بنتے تھے۔ خود ذوالفقار علی بھٹو بھی ان کی سخت تنقید سے محفوظ نہیں رہے۔ اسی لیے یحییٰ خان کے بارے میں ان کی رائے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
2000ء میں یحییٰ پر اپنے تفصیلی سلسلے کے آغاز میں کاؤسجی نے ایک جملہ لکھا جو آج بھی پڑھنے کے قابل ہے: یحییٰ کے بدترین دشمن کو بھی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ اس نے اپنے ملک یا عوام کو لوٹا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ یحییٰ نے خود کو "mediocre megalomaniacs" اور مفاد پرست سیاست دانوں کے ہاتھوں استعمال ہونے دیا، لیکن اس پہلو کو کسی نے نہ درست طور پر لکھا اور نہ پوری طرح بیان کیا گیا۔
یہاں دو باتیں الگ الگ سمجھنا ضروری ہیں کاؤسجی یحییٰ کو بے قصور نہیں کہہ رہے تھے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ کہانی ادھوری ہے اور شاید پاکستان کو آج اسی ادھوری کہانی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یحییٰ خان فوجی آمر تھے۔ اس حقیقت کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ مارشل لا کے ذریعے اقتدار میں آئے اور ملک پر فوجی حکومت قائم رہی۔ لیکن اسی فوجی حکمران کے دور میں پاکستان کی تاریخ کا وہ واقعہ بھی ہوا جسے شاید ہم نے اس لیے نظر انداز کردیا کہ وہ ہماری یحییٰ والی تصویر میں فٹ نہیں بیٹھتا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کی اپنی تاریخی دستاویز کے مطابق یحییٰ خان........
